30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فما اثبتوا لا شریکا واحد ا والمعتزلۃ اثبتوا شرکاء لا تحصی و ذٰلك انھا انما قالت بخلق العبد فعلہ الا ختیاری و کل فعل اختیاری لا بد لہ من عزم فعدد العزمات والا فعال سواء بل ربما تکون العزمات اکثر اذ قدیعزم العبد علی فعل ثم یصرف عنہ فلا یقع قال سیدنا علی کرم اﷲ تعالٰی وجھہ عر فت ربیّ بفسخ العزائم فان کانت العزمات یشملھا اسم واحد و ھو العزم فکذٰلك الا فعال ینتظمہا اسم واحد وھو الفعل،فلا طائل تحت ما قد م الشارح و یأ تی اٰ نفَا للمصنف انہ یکفی اسناد جزئی واحد الی العبد وھو العزم،بل لو فرضنا انہ واحد بالشخص فاﷲ تعالٰی متعال عن ان یشارکہ احد فی خلق شیئ ولو جزئیا واحدااما اعتذار المصنف بان البراھین ای الاٰ یات الناصۃ باختصاص الخلق بہ تعالٰی عمو مات تحتمل التخصیص وقد اوجبہ العقل اذ ار ادۃ العموم فیھا تستلزم الجبر المحض المستلزم لضیا ع التکلیف و بطلان الا مرو النھی و تعلق القدر ۃ بلا تا ثیر ای کما تقو لہ الا شاعرۃ لا ید فعہ لا ن موجب الجبر لیس |
کا قول کیا ہے یعنی الله تعالٰی کے ساتھ ایك اور شریك بنا دیا ہے جکہ معتزلہ نے الله تعالٰی کے بے شمار شریك بنا دئے یہ اس طرح کہ انھوں نے کہا کہ بندہ اپنے افعال اختیار یہ کا خود خالق ہے جبکہ ہر اختیاری فعل کےلئے عزم ضروری ہے تو اس طرح افعال اور عزمات کی تعداد مساوی ہُوئی بلکہ عزمات کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیونکہ بندہ کبھی ایك فعل کا عزم کرکے اس فعل کو ترك کر دیتا ہے،جس سے فعل وجود میں نہیں آتا جیسا کہ علی المر تضٰی رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو عزائم کے ناکام ہونے سے پہچانا ہے،اگر تمام عزائم کو ایك عزم کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اس طرح تو تمام افعال کو بھی ایك فعل کے نام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ یہ ایك سب کو شامل ہے،تو یہ بات شارح کی گزشتہ اور مصنّف کی آئندہ گفتگوکہ بندہ کی طرف ایك جزئی چیز یعنی عزم کی نسبت اس کے مکلّف ہونے کے لئے کافی ہے،کو مفیدنہیں،بلکہ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ یہ واحد شخصی ہے تب بھی الله تعالٰی اپنی تخلیق میں اس ایك شریك سے بھی پاك ہے اگرچہ یہ ایك جزئی ہو،مصنّف کا یہ عذر کہ وہ آیات جن میں تخلیق کو الله تعالٰی کا خاصہ بیان کیا گیا ہے وہ ایسے عمومات ہیں جن میں تخصیص کا احتمال ہے اور اس تخصیص کو عقل نے لازم کیا ہے کیو نکہ ان آیات کا عموم انسان کے مجبور محض ہونے کو مستلزم ہے جس سے مکلف ہونے اور امرونہی کا بطلان اور انسانی قدرت کا غیر مؤثر ہونا لازم آتا ہے اور اشاعرہ کا اس کے متعلق موقف کو ختم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع