30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بحث کا نامفید بے ثمر ہونا اس حاشیہ سے واضح جو فقیر نے یہاں ہا مشِ مسایرہ پر لکھا،وہ یہ ہے:
|
قولہ فاذااوجد العبد ذٰلك العزم اقول: معاذالله ان یقول بان العبد یخلق شیئا واحدا ولا عشر عشیر معشار شیئ الا لہ الخلق والامر تبارك اﷲ رب العٰلمین افمن یخلق کمن لا یخلق ما کان لھم الخیرۃ ھل من خالق غیر اﷲ و کون ھذا قلیلا بالنسبۃ الٰی مقدورات اﷲ تعالٰی لا یجدی نفعَا فانہ کثیر بثیر فی نفسہ جدا فان الا نسان لا یحصی مالہ من العزمات فی یو م واحد فکیف فی عمرہ فکیف عزائم الا ولین والاٰ خرین من الانس والجن والملك وغیر ھم فتخرج ھٰذہ الکثرۃ التی تفنی دون عد بعضھا الا عمار عن مخلوقات العزیز الغفار بلا واسطۃ و تد خل فی مخلوقات العبید فیکون جواب ھل من خالق غیر اﷲ بالا یجاب والعیاذ باﷲای بلٰی ھنا ك الوف مؤ لفۃ خالقون غیر اﷲ ولم تبثت المعتزلۃ اکثرمن ھذااذ شنع علیھم ائمتنا من مشائخ ماوراء النھر وغیرھم رحمھم اﷲتعالٰی قائلین انھم اقبح من المجوس حیث ان المجوس لم یقولوالا بخالقین اثنین |
قولہ اذا اوجد العبد ذٰلك العزم(جب بندہ اس عزم کو ایجاد کرتا ہے)اقول:(میں کہتا ہوں)معاذالله کہ ہم یہ کہیں کہ بندہ کسی ایك چیز کو پیدا کرتا ہے جبکہ کسی بھی چیز کا عشر عشیر صرف الله تعالٰی کی تخلیق اور حکم سے ہوتا ہے الله تبارك تعالٰی ہی رب العالمین ہے،کیا خالق غیر خالق کی طرح ہے جو کوئی اختیار نہیں رکھتے،کیا الله تعالٰی کے سوا کوئی خالق ہو سکتا ہے،اس عزم کا الله تعالی کی مقدورات کی نسبت قلیل ہونا کسی طرح مفید نہیں،کیونکہ یہ فی نفسہ کثیر و وسیع ہے کیونکہ انسان ایك دن کے اپنے عزمات کا شمار نہیں کر سکتا تو اپنی عمر بھر کے عزمات کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے تو اولین و آخرین انسانوں،جنات اور فرشتوں وغیرہم کے عزمات کا کیا اندازہ ہو سکتاہے،تو اس عظیم کثرت جس کے کچھ حصّہ کو شمار کرنے میں عمریں ختم ہو جائیں،کو تم الله تعالٰی عزیز غفار کی مخلوقات سے براہِ راست خارج کر دو اور اس کو بندے کی مخلوقات بنا دو تو لازم آئیگا کہ"ھل خالق من غیراﷲ"(کیا الله کے ماسوا کوئی خالق ہے)کا جواب ایجاب میں ہو گا(کہ ہاں اور خالق ہے)والعیاذ بالله تعالٰی(پھر یوں کہنا ہو گا)ہاں یہاں ہزاروں ہزار ماسوا الله خالق ہیں،معتزلہ بھی تو اتنا ہی کہتے ہیں جبکہ ماوراء النہرکے ہمارے ائمہ وغیر ہم رحمہم الله تعالٰی نے ان پر زبر دست تشنیع کی ہے اور انھوں نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ معتز لہ لوگ مجوس سے بد تر ہیں کیو نکہ مجوس نے دو خالقوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع