30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کل شعرۃ وکل قدرۃ و فعل اضطراری کحرکۃ المرتعش والنبض اواختیاری کا فعال الحیوانات المقصود لھم،واصلہ من النقل قولہ تعالٰی الله خالق کل شیئ وقولہ تعالٰی واﷲ خلقکم وما تعملون ومن العقل ان قدرتہ تعالٰی صالحۃ للکل لا قصورلھا عن شیئ منہ فوجب اضافتہا الیہ بالخلق اھ [1]مختصرَا۔ |
خواہ وہ جو ہر ہو یا عرض جیسے ہر بال کی حرکت،ہر طاقت و قدرت اور ہر فعل خواہ اضطراری ہو جیسے رعشہ والے اور نبض کی حرکت،یا فعل اختیاری ہو جیسا کہ اپنے مقصدکے لئے ہر حیوان کی حرکت کا خالق ہے،اور یہ ضابطہ،الله تعالٰی کے قول"خالق کل شیئ"،اور اس کے قول"واﷲ خلقکم وما تعملون"سے ماخوذ ہے،اور یہ عقلی تقاضا ہے کہ الله تعالٰی کی قدرت کاملہ ہے وُہ کسی چیز کے متعلق ناقص نہیں ہے لہذا ہر چیز الله تعالٰی کی صفت خلق کی طرف منسوب ہے اھ مختصرًا (ت) |
پھر جب عادت متاخرین اہل کلام بحث کے طو ر پر ایك بات لکھ گئے اگر مسلّم ہو تو اس بحرِ عمیق مسئلہ قدر میں شناوری اور سر الٰہی کی جلوہ گری چاہے جس میں بحث سے محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی الله تعالٰی عنہما کو ممانعت فرمائی اورآخر نتیجہ وہی ہُوا جو ہونا چاہئےکہ گو ہرکی جگہ خزف پر ہاتھ پڑے اور وہ بھی محض
" لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾"[2](نہ فربہ کرے اور نہ بُھوك ختم کرے۔ت)وُہ بحث یہ کہ عزم کو نصوص سے مخصوص مان لیجئے اس کا آغاز لقائل ان یقول(سے کیا یعنی کوئی کہنے والا یُوں کہہ سکتا ہے اور وہی شبہات جو معتزلہ پیش کرتے ہیں اس کی تقریر میں بیا ن کرکے کہا:
|
فلنفی الجبر المحض و تصحیح التکلیف وجب التخصیص وھو لا یتو قف علٰی نسبۃ جمیع افعال العباد الیھم بالایجاد(ای کما فعلت المعتزلۃ)بل یکفی ان یقال جمیع ما یتو قف علیہ افعال الجوارح من الحرکات وکذاالتروك التی ھی افعال النفس من المیل و الداعیۃ والاختیار ربخلق اﷲ تعالٰی |
بندے کے مجبور محض ہونے کی نفی اور اس کی تکلیف کی صحت کے لئے تخصیص واجب ہے اور یہ اس بات پر وقوف نہیں کہ بندوں کے تام افعال کا ایجاد،بندوں کی طرف منسوب ہو،یعنی جیسا کہ معتزلہ نے کیا ہے،بلکہ اس کے لئے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ چیز جس پر بندہ کے افعال جوارح حرکات اور تر وك وغیرہ نفس کے افعال مثلاَمیلان،دواعی اور اختیارات وغیرہ ہیں یہ سب کے سب الله تعالٰی کی تخلیق سے ہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع