30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وجودہ و امکان تعلق العلم بالمراتب الغیر المتناھیۃ مفصلۃ ممنو ع انتھی فان قیل فیلز م الجھل علی الله قلت الجہل عدم العلم بما یصح تعلق العلم بہ کما ان العجزعدم تعلق القدرۃ بما یصح ان تتعلق بہ فتأ مل اھ ۔[1] |
مشتمل ہے جن کا وجو د ممتنع نہ ہو،او رمفصل طورپر غیر متناہی مراتب میں علم کے تعلق کا امکان ممنوع ہے انتہٰی،اگر اعتراض کیا جائے کہ اس سے الله تعالٰی کا جہل لازم آئے گا،تو میں کہتا ہوں جن چیزوں سے علم کا تعلق صحیح ہو ان کو نہ جاننا جہل ہے،جس طرح جن چیزوں سے قدرت کا تعلق صحیح ہو ان چیزوں کی قدرت نہ ہونا عجز کہلاتا ہے،غور کر اھ۔(ت) |
ممنوع کہتے تو کہہ گئے لیکن نظر کرتے کہ یہ وسو سہ باطلہ جو عدد مبین اعاذناالله تعالٰی من شرہ المہین نے القا کیا،اس کی تہ میں کیا کیا آفات قاہرہ ہیں،تو ہر گز خامہ و نامہ کو اس سے آلودہ کرنا روانہ رکھتے،
فاقول اوّلا:(دونوں ملّا صاحب فرمائیں تو کہ سلسلہ اعداد سے کس قدر پر مولٰی عزوجل کا علم جاکر رُك گیا کہ اس سے آگے کا عدد خدا کو معلوم نہیں،سلسلہ ایاّم آخرت سے کتنے دن خدا کو معلوم ہیں،آگے مجہو ل نعیم جنان و عذاب نیران سے کتنی مقدار علم الٰہی میں ہے زیادہ کی اسے خبر نہیں،کیا کوئی عاقل مسلم سوچ سمجھ کر ایسی بات کہہ سکتا ہے،حاشاوکلاّ دیکھو کیسی صریح تصدیق ہے امام شافعی کے اس ارشاد کی کہ ما ظنت مسلماَ یقولہ [2](مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان یہ بات کہے گا۔ت)،ہاں انھوں نے اطلعت علٰی شیئ[3](میں نے کسی چیز پراطلاع پائی۔ت)فرمایا،
|
"وقد اطلعنا علٰی اشیا ء اذفسد الزمان و الی الله المشتکی وعلیہ التکلان"۔ |
جبکہ ہم نے فساد زمان کی وجہ سے بہت سی چیزوں پر اطلائی پائی جبکہ شکایت الله تعالٰی کے دربار میں ہے اور اسی پر تو کل ہے(ت) |
ثانیا: جوحد مقرر کیجئے وہاں فارق بتایئے کہ حد بندی کرے،کیا سبب کہ یہاں تك کا علم ہوا بعد کا نہیں،علم کے لئے معلوم کا وجود خارجی درکا رہو تو آخرت درکنا ر معاذالله کل آئندہ کا علم نہ ہو بلکہ ازل میں جملہ ماورا سے عیاذابالله جہل مطلق ہو پھر خلق کیونکر ہو اور جب وجود ضرور نہیں تو معدوم معدوم سب یکساں،کسی حدِ خاص پر رُکنا ترجیح بلا مر جح ہے بخلاف علوم عالم کہ وہاں مر جح ارادہ الٰہیہ ہے،جسے جتنا دیا اُتناملا"وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ"[4](الله تعالٰی کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر صرف جتنا الله تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع