30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعینہ اسی طرح حسن چلپی علی السید میں ہے تو عقائد ان کے وہی ہیں جو متون خود اور ان کے کلام میں جابجا مصرح ہیں اگرچہ بحث مباحث میں کچھ کہیں،خصو صا وُہ جن پر فلسفہ کا رنگ چڑ ھا اُن کو تو لِمَ ولا نسلم کا وہ لپکا بڑھا جس کے آگے کھائی،خندق، دریا،پہاڑ سب یکساں ہیں مطارحات میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ،شرح فقہ اکبر میں ہے سیّدنا امام شافعی رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
لقد اطلعت من اھل الکلام علٰی شیئ ماطننت مسلما یقولہ۔[1] |
میں نے اہل کلام سے بعض باتیں وہ سنیں کہ مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی مسلمان ایسا کہتا۔ |
وُہ تو سمجھ لئے کہ بحث مذہب پر حاکم نہیں،ہمارے عقائد معلوم و معروف ہیں لِمَ ولانسلم میں جو بات اس کے خلاف ہو گی ناظرین خود ہی سمجھ لیں گے اور ان کے متعدد اکابر نے اس پر تنبیہ بھی کر دی،مگر مضل مغوی کا کیا علاج وُہ تو ایسے ہی موقع کی تاك میں رہتا ہے ادھر عامی بیچارہ مارا پڑا یا وادی حیرت میں سر گرداں رہا اسے ہر بات میں قاعدہ اہل حق کہاں معلوم کہ اس کی مراعات کر لے گا،یہی وُہ باتیں ہیں جنھوں نے اس قسم کے کلام متاخرین کو ائمہ دین کی نگاہ میں سخت ذلیل و بے قدر بنا دیا،یہاں تك کہ امام ابو یو سب رحمۃالله تعالٰی نے فرمایا:
|
من طلب العلم بالکلام تزندق۔[2] |
جس نے عِلم کلا م کے ذریعہ علم حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ زندیق بنا۔(ت) |
فقہائے کرام نے فرمایا جو مال علماء کے لئے وصیّت کیا گیاہو متکلمین کا اس میں حصہ نہیں،نہ کتبِ کلام کتبِ علم میں داخل،ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
لا ید خل فی ھذہ الوصیۃ المتکلمون۔[3] |
اس وصیت میں متکلمون(علم کلام والے)داخل نہ ہوں گے۔ (ت) |
انھیں میں امام ابو القاسم صفار رحمۃ الله تعالٰی سے ہے:کتب الکلام لیست کتب العلم [4](کلام کی کتب علم کی کتب نہیں۔ ت)منح الروض الازہر میں فتاوی ظہیر یہ سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع