30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کی قائم کی ہُوئی ایك دلیل یا دیا ہُوا جواب بگڑ جانے سے اصل مسئلہ باطل نہیں ہو سکتا نہ معاذ الله یہ بحث کرنے والا اپنا عقیدہ بدلتا اور مذہب اہلسنّت کو باطل جان کر اس سے باہر نکلتا ہے یہ ایك ایسی بات ہے جسے نہ فقط اہلسنت بلکہ ہر مذہب و ملّت والا اپنے یہاں دیکھتا جانتا ہے،پھر بھی جب تك زمانہ خیر کا قرب تھا اس رَد و کد میں ایك اعتدال باقی تھا جب فن کلام فلسفہ دان متا خرین کے ہاتھ پڑا اب توبات بات میں وجہ بے وجہ نکتہ چینی کی لَے بڑھی جس سے مقصو د صرف بردو مات ورَدّو اثبات و منع و نقض و اخذ میں ذہن آزمائی اور اپنی طاقت سخن کی رونمائی ہوتی ہے وبس،نہ کہ معاذ الله مذہب سے پھریں دین و عقائد کو باطل کریں حاشالله یہاں سے ہر ذی انصاف پر ظاہر کہ یہ متاخر شارح محشی جو کچھ بحث میں لکھ جایا کرتے ہیں وہ مطلقًا خود ان کا اپنا بھی اعتقا د نہیں ہوتا نہ کہ تمام اہلسنت و جماعت کا عقیدہ،عقیدہ وُہ ہوتا ہے جو متون و مسائل میں بیان کر دیا بالائی تقریریں اس کے موافق ہیں تو حق ہیں،مخالف ہیں تو وہی ان کی بحث بازیاں اور ذہن آزمائیاں اور قلم کی جولانیاں ہیں جن کا خود انھیں اقرار ہے کہ ان میں قواعد اہل حق کی پابندی نہیں کی جاتی اور معرفتِ سامع پر چھوڑا جاتا ہے کہ عقیدہ اہل حق اسے معلوم ہے اس کی مراعات کر لے گا،مواقف میں ہے:
|
انت تعرف مذھب اھل الحق و انما لا نتعرض لا مثالہ للا عتماد علی معر فتك بھا فی موا ضعھا۔[1] |
تم اہل حق کا مذہب جانتے ہو اور تمھاری اس معرفت کی بنا پر ہی ہم ایسے مقامات میں اس سے تعرض نہیں کرتے۔(ت) |
شرح میں ہے:
|
فعلیك برعایۃ قواعد اھل الحق فی جمیع الباحث وان لم نصرح بھا۔[2] |
توتجھ پر لازم ہے کہ تمام مباحث میں اہل حق کے قواعد کا پاس کرے اگرچہ ہم وہاں یہ تصریح نہ کریں۔(ت) |
شرح مقاصد میں ہے:
|
کثیر اما توردالا راء الباطلۃ للفلا سفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الٰی زیاد ۃ بیان [3] |
عام طو رپر فلا سفہ کی باطل آراء کو ان کا بطلان ذکر کئے بغیر وار د کر دیا جاتا ہے ہاں جہاں کسی زائد بیان کی ضرورت ہو تو وہاں ان کا بطلان و اضح کر دیا جاتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع