30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب اسے الله عزوجل کی طرف نسبت کرو تو ضرور محال ہے کہ ذات الٰہی بالذات مقتضی جملہ کمالات و منافی جملہ نقائص ہے تو اس پر کذب محال بالذات ہے یہ استحالہ جانب باری سے بالذات ہوا کہ اس کی ذات کریم ہر عیب کے منافی ہے،مگر مطلق کذب جو کلیِ عام شامل ہر کذب اور ہر شخص کے کذب کو تھا اس فرد کے استحالہ سے اسے بھی ایك استحالہ عارض ہوا کہ ہر فرد کا حکم طبیعت من حیث کی طرف ساری ہوتا ہے یہ استحالہ مطلق کذب کے حق میں ذاتی نہ ہوا کہ خود مطلق کذب کی ذات سے پیدا نہ ہوا بلکہ الله عزوجل کی ذات سے،بعینہ اس کی مثال وہی اجتماع نقیضین ہے،مطلق اجتماع کسی کا ہو اپنی حد ذات میں محال نہیں ورنہ کبھی کوئی دو ۲ چیزیں جمع نہ ہو سکتیں ہاں نقیضین کا اجتماع محال بالذات ہے کہ ذات نقیضین منافی اجتماع ہے،مگر مطلق اجتماع کہ ہر دوشےَ کے جمع ہو نے کو عام شامل تھا وہ جو اس مادہ خاصہ میں آکر محال ہوا تو یہ استحالہ اس کے لئے ذاتی نہیں بلکہ خصوص نقیضین کے باعث ہے تو مطلق اجتماع کہ ماہیت مطلقہ ہے ضرور ممکن بالذات بلکہ لاکھوں جگہ موجوداور اس کے سبب اجتماع نقیضین ممکن نہیں ہو سکتا وہ قطعا محال بالذات ہے یو نہی مطلق کذب کہ طبیعت مرسلہ ہے ضرور ممکن بالذات بلکہ ہزاروں جگہ موجود اس کے سبب معاذالله کذب باری ممکن نہیں ہو سکتا وہ یقینامحال بالذات ہے،یہ ہے اس عبارت کی تقریر جس سے اعتراض ملّا سیالکوٹی صاحب کی تشریح بھی ہو گئی اور اس سے جواب کی خوب تو ضیح بھی کہ یہاں کلام کذب خاص میں ہے نہ کہ مطلق طبیعت کذب میں،اور کلی کا امکان اس کے ہر فرد کے امکان کو مستلزم نہیں،یہاں ملّا سیالکوٹی کی تو اتنی ہی خطا تھی کہ محلِ نزاع میں فرق نہ کیا امکانِ فرد میں بحث تھی اور لے کر چلے امکان طبیعت،مگر دیو بندی اپنے کفر سے کب باز آتے ہیں،وہ اسی کو معاذالله امکان باری پر دلیل بتاتے اور اپنے کفریا ت ان کے سر منڈھاچاہتے ہیں،بہت خوب اب دیو بندی سنبھل کر بتائیں کہ یہ سیا لکوٹی تقریر جس طرح تم بتاتے ہو تمھارے نزدیك حق ہے یا باطل،اگر باطل ہے تو کیوں دانستہ اوندھے چلتے اور ناواقف مسلمانوں کو چھَلتے ہو،اور حق ہے تو تمھارے ہی منہ ثابت ہو کہ تم مشرك ہی نہیں بلکہ نرے بت پرست ہو کہ الله عزوجل کو مانتے ہی نہیں صرف اپنے ساختہ ٹھا کر کو پُوجتے ہو،یُوں نہ مانو ہم ثابت کر دیں تو سہی،جس تقریر سے اس کا کذب معاذ الله ممکن ٹھہرایا،بعینہ بلا تفاوت اسی تقریر سے اس کا شریك بھی ممکن ہےکہ شریك اگر محال ہو تا تو کوئی کسی کا شریك نہ ہو سکتا تو شریك باری اس واسطے سے محال ہو گا کہ اس کے کمال کے منافی ہے تو ممتنع بالغیر ہوا اور امتناع بالغیر امکان ذاتی کا منافی نہیں،بعینہ بلاتفاوت اسی تقریر سے اس کی موت و فنا بھی ممکن ہے کہ موت محال ہوتی تو کوئی کبھی نہ مرتا تو موتِ باری اس واسطے محال ہوئی کہ منافی کما ل ہوئی تو امتناع بالغیر رہا تو اس کا مرنا فنا ہو جا نا ممکن بالذات ہوا تو وہ واجب الوجود نہ ہوا تو الٰہ نہ ہوا بلکہ کوئی تمھارا ساختہ ٹھا کر ہُوا،"اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾ "[1](خبر دار ظالموں پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع