30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وُہ مقدمہ یہ کہ جس بات کا حق جاننا خدا پر جائز و رو اہے وُہ ضرور فی الواقع حق و بجا ہے ورنہ خدا پر جہل مرکب جائز ہو کہ اپنی غلط فہمی سے ناحق کو حق جان لے باطل کو صحیح مان لے،امام الوہابیہ نے اگر چہ اس کا کذب ممکن کہا مگر وُہ یُوں تھاکہ اس کے علم میں ٹھیك بات ہے اور دوسروں سے اس کے خلاف کہے نہ یہ کہ خود اس کا علم ہی باطل و خلافِ حق ہو اس کے امکان کی اس نے تصریح نہ کی،دیوبندیوں نے اگرچہ امکان جہل عــــــہ صراحۃً اوڑھ لیا مگر وہ جہل بسیط تھا کہ ایك بات معلوم نہ ہونا،نہ کہ جہل مرکب کہ باطل کو حق اعتقاد کرنا،اس کا امکان ان سے بھی مسموع نہیں، رہے ہم اہل اسلام،ہمارے نزدیك تو بحمدالله تعالٰی یہ مقدمہ اجلی بد یہیات و اعلٰی ضروریات دین سے ہے،اگر خدا کا علم جائز الخطا ہو تو قیامت و حشرو نشر و جنت و نار وغیر ہا جملہ سمعیات باطل محض ہو جائیں کہ ان کی طرف عقل کو آپ تو راہ ہی نہیں کہ کسی دلیل کسی تعلیل،کسی استقراء،کسی تمثیل سے ان پر اعتقاد کر سکے ان کا اعتقاد محض بربنائے کلام الٰہی تھا اب اس کی جانچ واجب ٹھہری کہ ایك جائز الخطاء کی بات ہے،جانچ کا ہے سے ہوگی عقل سے،عقل وہاں چل سکتی ہی نہیں تو محض مہمل و بے ثبوت جاننا اور ان سب کا چھوڑ دینا لازم ہُوا کذب نے تو بات ہی میں شبہ ڈالا تھا جہل مرکب نے جڑ سے لگی نہ رکھی بلکہ نظر بمذہب وہابیہ اس تقدیر پر نہ صرف ایمانیات معاد بلکہ خود اصل ایمان اعنی تو حید الٰہی پر بھی ایمان ہاتھ سے جائے گا،وجہ سُنئے وہابیہ کے طور پر خدا کےلئے بیٹا ہونا عقلًامحال نہیں ان کا امام صاف مان رہا ہے کہ جو کچھ انسان کر سکتا ہے خدا بھی اپنے لئے کر سکتاہے تو واجب ہُوا کہ خدا عورت سے نکاح بعدہ جماع بعدہ اس کے رحم میں اپنے نطفے کا ایقاع کر سکے ورنہ قدرت میں انسان سے گھٹ جو رہے گا،اور جب یہا ں تك ہو لیا تو اب نطفہ ٹھہرانے اور بچہّ بنانے اور پیدا کرلانے میں کیا زہر گھُل گیا کہ ان سے عاجز رہے گا دنیا بھر کی ماؤں کے ساتھ یہ افعال کر رہا ہے،اپنی زوجہ کے بارے میں کیوں تھك رہے گا،آخر وہا بیہ کا ایك پُرانا امام ابن حزم غیر مقلّد ظاہری المذہب مدعی عمل بالحدیث منہ بھرکر
عــــــہ:مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرحوم مصنف تقدیس الوکیل عن توہین الرشید و الخلیل وغیرہ نے جو اس ہذیان امام الوہابیہ پر لزوم امکان جہل وغیرہ شناعات سے نقص کیا تھا،مولوی محمود حسن دیو بندی وغیرہ پارٹی دیوبند نے عقائد گنگوہی کے بیان و حمایت میں اس کا جواب اخبار نظام الملك پرچہ ۲۵ / اگست ۱۸۸۹ء میں یہ چھاپا"چوری شراب خوری،جہل،ظلم سے معارضہ کم فہمی معلوم ہوتا ہے،غلام دستگیر کے نزدیك خداکی قدرت بندہ سے زائد ہونا ضروری نہیں حالانکہ یہ کلیہ ہے جو مقدورالعبد ہے مقدور الله ہے۔"دیکھو کیسا صاف اقرار ہے کہ وہابیہ کا معبود چوریاں کرئے شرابیں پئے،جاہل بنے،ظلم میں سے سب کچھ روا ہے،اعوذبالله من الخذلان اس پرچہ کی خرافات ملعونہ کا ردآخر کتاب مستطاب سبحٰن السبوح میں چھپا ہے وہاں ملا حظہ ہو ۱۲ منہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع