30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زوجہ کو طلاق عــــــہ نہیں دے سکتا تو ہر ایك دوسرے کے مقدور پر قادر نہیں بلکہ اس کی نظیر پر قادر ہے،لیکن حق جل مجدہ دونوں پر قادر ہے کہ ان میں جواپنی زوجہ کو طلاق دے گا وُہ طلاق الله ہی کی قدرت سے واقع و موجود و مخلوق ہوگی تو الله تعالٰی زید و عمرو ہر ایك کے عین فعل پر بھی قادر ہے اور مثل فعل پر بھی کہ ایك کا فعل دوسرے کا مثل تھا،مگر امام الوہابیہ کی ضلالت نے اسے خدا کی قدرت نہ جانا بلکہ قدرت کے لئے یہ لازم سمجھا کہ جیسے وہ اپنی اپنی جورو کو طلاق دے سکتے ہیں خدا خود بھی اپنی جورو مقدسہ کو طلاق دے سکے،اس گدھے پن کی حد ہے ؟ اس بے ایمانی کا ٹھکانہ ہے ؟ ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
چہارم:یہ قضیہ بیشك حق تھا کہ جس پر انسان قادر ہے اس سب اور اس کے علاوہ نامتناہی اشیاء پر مولٰی عزو جل قادر ہے وہ بقدرت ظاہر یہ عطائیہ اور حق بقدرت حقیقیہ ذاتیہ مگر اس حق کو یہ ناحق کوش کس طرح باطل محض کی طرف لے گیا انسان کا کسی فعل کوکرنا کسب کہلاتاہے انسان کی قدرت ظاہر یہ صرف اس قدرہے،قدرت حقیقیہ خلق و ایجاد میں اس کا حصہ نہیں وہ خاص مولٰی عزوجل کی قدرت ہے تو اس کلمہ حق کا حاصل یہ تھا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے الله عزوجل اسکے خلق اور پیدا کرنے پر قادر ہے کہ وہ کسب نہ ہو گا مگر بقدرت خدا اس دل کے اندھے نے یہ بنا لیا کہ انسان جس چیز کے کسب پر قادر ہے،رحمن بھی خود اپنے لئے اس کے کسب پر قادر ہے سبحٰن الله رب العرش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ت)اندھے نے نہ جانا کہ کسی کا کسی شے پر قادر ہونا"صحۃ الشیئ منہ"ہے نہ کہ"صحۃ الشیئ علیہ"،اور صاف گھڑلیا کہ"ما یصح علی العبد یصح علی اللہ"جو بندے پر جاری ہو سکے خدا پر بھی جاری ہو سکتا ہے،اس سے بڑھ کر اور کیا ضلالت و شیطنت بے انتہا ہے،
|
"وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪"[1] |
اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت) |
دیوبندی اسے قطعی دلیل کہتا ہے،ہم ایك فائدہ عجیبہ بتائیں،میں کہتا ہوں ہاں وہ ضرور قطعی دلیل ہے مگر کاہے پر،وہابیہ امام الوہابیہ کے ایك ایك قول ایك ایك فقرے ایك ایك حرف وہابیت کے ابطالِ صریح پر،اس حجت عامۃ الظہور لامعۃ النور کی تقریر ایك مقدمہ واضحہ کے بیان سے روشن و منیر،
عــــــہ:بمعنی مذکور ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع