30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقع ہُوا بلکہ کذب ہونے میں اس کے مثل ہوں گے اور مثل پر قدرت شے پر قدرت نہیں،وُہ خاص کذب انسانی جو قدرت انسانی سے واقع ہوا اسے صراحۃً قدرتِ خدا سے جدا کہہ رہے ہو تو خدا کا کذب ممکن بلکہ اب تازہ ایمان گنگوہی پر معاذالله واقع مان کر بھی وُہ کال تو نہ کٹا کہ ایك شیئ جو زیر قدرت انسانی تھی زیر قدرت رحمانی نہ ہوئی اس کی نوع مقدورخدا ہوئی نہ کہ خود وہ فرد،تو تونے خدا اور انسان کو دربارہ کذب برابر کے دو عاجز مانا کہ نوع کذب کے افراد سے جس فرد پر انسان قادر ہے اور جس فرد پر خدا قادر ہے انسان قادر نہیں۔دہلوی کے بندو! اسی پر اس مسئلہ میں "اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿٪۷۰﴾ "[1](بیشك الله تعالٰی ہر شیئ پر قادر ہے۔ت)پڑھتے اور کذب الٰہی محال جاننے والے مسلمانوں پر عجز ماننے کی تہمت رکھتے ہو،حالانکہ تم خود ہی وُہ ہو کہ خدا کو افراد مقدورہ عبد پر قادر نہیں مانتے جب تو وزن برابر کرنے کوامثال مقدورات عبد خود اس کے نفس کریم میں گھڑنا چاہتے ہو قاتلکم اللہ(الله تعالٰی تمھیں ہلاك کرے۔ت)کسی مذہب خبیث کی بھی تقلید چھوڑو گے یا سب میں سے ایك ایك حصّہ لو گے،یہ طوائف معتزلہ سے طائفہ جبائیہ کامذہب ہے کہ الله تعالٰی نفس مقدورات عبد پر قادر نہیں۔مواقف میں ہے:
|
الجبائیۃ قالوا لایقدر علی عین فعل العبد [2]الخ۔ |
جبائیہ نے کہا کہ الله تعالٰی عین فعل عبد پر قدرت نہیں رکھتا الخ(ت) |
ہم اہلسنّت کے نزدیك الله تعالٰی عین مقدورات عبد پر بھی قادر ہے کہ وہ اسی کی قدرت کاملہ سے واقع ہوتے ہیں اور ان کے امثال پر بھی کہ امثال عبد سے امثال فعل صادر کر اسکتا ہے،مگر ایسے امثا ل پر قدرت کہ خود اپنے نفس کریم سے ویسی ناپاکیاں صادر کر دکھائے اس سے وُہ پاك و متعالی ہے،سبحٰن الله رب العر ش عما یصفون(پاکی ہے عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔ت)
اس کی مثال یُوں سمجھو کہ زید و عمر و دونوں اپنی اپنی زوجہ عــــــہ۱ کو طلاق عــــــہ۲ دینے پرقادر ہیں مگر ایك دوسرے کی
عــــــہ۱:یہ فہم امام الوہابیہ کے قابل واضح تغایر لکھا ہے ورنہ مخلوق میں کسی فعل بعینہ پر دوسرے کو قدرت نہیں ہو سکتی کہ فعل فاعل سے تعین پاتا ہےتو وہ فعل مثلا روٹی کھانا،پانی پینا یا اٹھنا بیٹھنا وغیرہ وغیرہ جو زید سے صادر ہوا عمرو سے صادر نہیں ہو سکتا اس کی نظیر اس سے صادر ہو گی ۱۲ منہ مد ظلہ
عــــــہ۲:یعنی ایسی طلاق جس میں اصیل خود مختارہو ۱۲ منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع