30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العبد صحۃ الحکماء ایجابا [1]۔ |
کہتے ہیں کہ بندے کا فعل خود بندے کی قدرت سے ہو تا ہے، معتزلہ کے نزدیك امکانی طورپر کہ قدرت بندہ سے وقوعِ فعل ممکن ہے واجب نہیں اور فلاسفہ کے نزدیك وجوبی طور پر کہ تخلف ممکن نہیں۔ |
دوم:اندھے سے پوچھو انسان کو کس کے کذب پر قدرت ہے،اپنے یا خدا کے۔ظاہر ہے کہ انسان قادر ہے تو صرف کذبِ انسانی پر نہ کہ معاذ الله کذبِ رباّنی پر۔اور شك نہیں کہ کذب انسانی ضرور قدرت ربانی میں ہے،پھر اگر کذ ب ربانی قدرت ربانی میں نہ ہُوا تو قدرت انسانی کیونکر بڑھ گئی،وہ کذب ربانی پر کب تھی اور جس پر تھی یعنی کذب انسانی،اسے ضرور قدرت ربانی محیط ہے،مگر خداجب دین لیتا ہے عقل پہلے چھین لیتا ہے،دل کے اندھے نے یہ خیال کیا کہ انسان اپنے کذب پر قادر ہے،اور یہی لفظ بارگاہِ عزت میں بول کر دیکھا کہ اسے بھی اپنے کذب پر قدرت چاہئے اور نہ سوُجھا کہ وہاں اپنے سے انسان مراد تھا اور اب خدا مرا دہو گیا،اس کی نظیر یہی ہو سکتی ہے کہ اسی کی طرح کا کوئی کورباطن خیال کرے کہ انسان اپنے خدا کی تسبیح کر سکتا ہے تو چاہئے کہ خدا بھی اپنے خدا کی تسبیح کرسکے ورنہ قدرت انسانی بڑھ جائے گی،تو خدا کے لئے اور خدا درکار ہوا،
|
وھلم جرا الٰی غیر نھایۃ و غیر قرار،کذٰ لك یطبع الله علٰی کل قلب متکبر جبار۔ |
اور کھینچتا چل مالا نہایۃ تک،یونہی الله تعالٰی ہر متکبر سر کش کے دل پر مُہر لگا دیتا ہے(ت) |
سوم:ہم پُوچھتے ہیں قدرتِ انسانی بڑھ جانےسے کیا مراد ہے،آیا یہ کہ انسان کے مقدورات گنتی میں خدا کے مقدورات سے زائد ہو جائیں گے،یہ تو بداہۃً استحالہ کذب کولازم نہیں کہ کذب و جملہ نقائص سرکا رعزت کے لئے سرکار عزت کی قدرت میں نہ ہو نے پر بھی اس کے مقدورات غیر متناہی ہیں اور انسان کتنی ہی ناپاکیوں پر قادر ہو آخر اس کے مقدورات محدود ہی رہیں گے اور متناہی کو نامتناہی سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی،ہاں یہ کہئے کہ ایك چیز بھی ایسی نکلنا جو انسان کے زیر قدرت ہو اور رحمٰن کے زیر قدرت نہ ہو محال ہے(اور بیشك ایسا ہی ہے)اسی کو زیادت قدرت سے تعبیر کیا ہے تو اب ہم دریافت کرتے ہیں یہ خاص کذب کہ انسان سے واقع ہوا قدرتِ خدا سے ہوا یا قدرتِ خدا سے جدا،بر تقدیر اول وہ کون سی چیز نکلی جو انسان کے زیر قدرت تھی اور رحمن کے زیر قدرت نہ تھی کہ یہ جو قدرت انسان سے ہوا خود مانتے ہو کہ قدرت رحمن سے ہوا پھرزیادت کہاں،بر تقدیر دوم رحمن اگرچہ معاذالله اپنے کروڑکذبوں پر قادر ہو وہ کذب اس کذب کے عین نہ ہوں گے جو انسان سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع