30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کفر متفق علیہ کی فصل میں منقول،
|
او صدّق کالم اھل الا ھواء عــــــہ اوقال عندی کلام مھم کلام معنوی اومعنا ہ صحیح [1] الخ۔ |
یا وُہ تصدیق کرے کلام اہل بدعت کی،یا کہے میرے ہاں ان کا کلام بامقصد ہے،یا کہٰے اس کا معنی درست ہے الخ(ت) |
فقیر نے اس مسئلہ کی قدرے تفصیل اپنے رسالہ مبارکہ مقامع الحدید علی خدا المنطق الجدید میں ذکر کی والله الموفق۔
ثالثا: الحمد لله کہ علمائے اہلسنت ان نے جہلا کی جہالت فاحشہ سے پاك نرالے اور ان کے بہتانی خیالوں،شیطانی ضلالوں پر سب سے پہلے تبراّ کرنے والے مگر ان کی قوتِ واہمہ نے جو انھیں امام الطائفہ کے ترکہ میں ملی،ائمہ متقدمین میں کچھ علما ء ایسے تراشے جو کذب الٰہی کے جواز و قوعی بلکہ وقوع بالفعل کے قائل ہوئے تو وہ تراشیدہ علماء ساختہ ائمہ(جن کا ان جہال کے وہم و خیال کے سواکہیں وجود نہیں)قطعا جماعا کافر مرتد تھے،اب انھوں نے ان وہمی موجودوں یقینی مرتدوں کو کافر نہ جانہ بلکہ مشا ئخِ دین و علمائے معتمدین مانا تو خود ان پر کفر وار تداد لازم آنے میں کیا کلام رہا کہ جو کسی منکرِ ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے۔امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ سفا شریف میں فرماتے ہیں:
|
الاجماع علی کفر من لم یکفراحدا من النصاری و الیہود و کل من فارق دین المسلیمن او وقف فی تکفیر ھم او شک،قال القاضی |
یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہودونصارٰی یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شك لائے،امام قاضی |
|
عــــــہ:حمل العلامۃ ابن حجر اھل الاھواء علی الذین نکفر ھم ببد عتھم قلت وھو کما افاد ولا یستقیم التخریج علی قول من اطلق الاکفا ر بکل بدعۃ فانہ الکالم فی الکفر المتفق علیہ فلیتبنہ ۱۲۔ |
علامہ ابن حجر اہل ہوا سے مراد وہ لوگ لیتے ہیں جنھیں ان کی بدعت کی وجہ سے کافر کہا گیا ہے،میں کہتا ہون بات وہی ہے جو انھوں نے کہی اسے یہ حوالہ اس قول پر صحیح نہیں جو مطلقًا ہر بدعت کو کفر کہتے ہیں کیونکہ گفتگو اس کفر میں ہو رہی ہے جس پر اتفاق ہو اسے یا د رکھ ۱۲(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع