30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہمہ ممکنات اند اھ [1]ملحضا۔ |
لذاتہ ہو جائے کیونکہ اس کے تمام معلولات ممکن ہیں اھ ملخصًا(ت) |
اگر اس کی یہ تقریر پریشان طویل الذیل جس میں اس نے خواہی نہ خواہی ذرا سی بات کو بیگھوں میں پھیلایا ہے،تمھاری مقدس سمجھ میں نہ آئے تواسی کا دوسرا بیان مختصر سنوِ اسی یکروزی میں لکھتا ہے:
|
اگر مقصوداین ست کہ ازوقوع ممکن ہیچگونہ محال ناشی نمی گرددلابالنظر الٰی ذاتہ ولا بالنظر الی الامور الخارجیۃ پس این مقد مہ ممنوع ست چہ بریں تقدیر لازم می آید کہ وجود ہر معدوم و عدم ہر موجود محال باشد زیرا کہ مستلزم محال ست یعنی کذب علم ازلٰی [2]۔ |
اگر مقصود یہ ہے کہ وقوع ممکن سے کو ئی محال لازم نہیں آتا،نہ اس کی ذات کے اعتبار سے اور نہ امور خارجی کے اعتبار سے،تو یہ مقدمہ ممنوع ہے کیونکہ اس صورت میں لازم آئے گا کہ ہر معدوم کا وجود اور ہر موجود کاعدم محال ہو کیونکہ یہ محال کو مستلزم ہے یعنی علم ازلی میں کذب۔(ت) |
دیکھو باوجود امکان ملزوم لازم کو محال مانتا ہے،پھر تمھاری جہالت کہ تعزیب مطیع و عفو کافر کے امکان سے امکان کذب پر استدلال کرتے ہو،غرض حق یہ ہے کہ یہ نفیس استدلال کسی ایسے ہی مقدس آدمی کا کام ہے جسے دیو جہالت کی بندوقید میں کبھی علم و فہم کی ہوا نہ لگی ہو،والله الھادی خیر یہ تو وہ تھے جنھو ں نے تقلید امام سے تجاوز نہ کیا تھا،رہے امام عنید کے مریدرشید، انھوں نے بیشك ہمت فرماکر وُہ طرفہ ابکار افکار ہدیہ انظار فحول نظار کیں یعنی یہی جواز خلف کی تقریر ناز نین جس کے باعث اُن پر لزوم کفر کی تین و جہیں اور بڑھیں:
اولا:وہ وجہ ہائل کہ تمام مقلدین امام طائفہ کو عموما شامل یعنی یہ اس کے قول مذکور وجمیع اقوال کفریہ میں مقلد اور بیشك جو کفریات میں تقلید کرے قطعا لزومِ کفر سے حصّہ پائے۔
ثانیا: ان حضرت نے جواز خلف بمعنی کذب،ائمہ دین کی طرف نسبت کیا ور ہم بد لائل قاطعہ مبرہن کر آئے کہ وُہ جس معنی پر خلف جائز فرماتے ہیں اسے قطعا جائز و قوعی بلکہ واقع ٹھہراتے ہیں،تو ان حضرت نے مولٰی سبحانہ و تعالٰی کا کاذب بالفعل ہو نا کہ قطعا اجما عا کفر خالص ہے،ایك جماعت ائمہ دین کا مذہب جانا اور اسے اس قدر ہلکاسمجھا کہ ائمہ اہل سنت کا اختلافی مسئلہ مانا اور اس پر طعن کو بیجا بتایا اور اس سے تعجب کا ر جہلا ٹھہرایا اور بیشك جو شخص کسی عقیدئہ کفر کو ایسا سمجھے خود کافر ہے،اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع