30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نظر کیجئے تو آپ کو اپنی دانشمندی پریقین کامل آئے۔علاّمہ سعدالدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں:
|
ان الله تعالٰی لما اوجد العالم بقد رتہ اختیارہ فعد مہ ممکن فی نفسہ مع انہ یلزم من فرض و قوعہ تخلف المعلوم عن علتہ التامۃ وہو محال والحاصل ان لاممکن لایلز م من فرض و قوعہ محال بالنظر الٰی ذاتہ واما بالنظر الٰی امر ز ائد علٰی نفسہ فلا نسلم انہ لا یستلزم المحال۔[1] |
الله تعالٰی نے جہان کو اپنی قدرت و اختیار سے تخلیق فرمایا اس کا فی ذاتہ عدم ممکن ہے باوجودیکہ اسکے وقوع کے فرض سے معلول کا اپنی علت تامہ سے تخلف لازم آتا ہے اور یہ محال ہے،حاصلیہ ہے کہ ممکن وُہ ہوتا ہے جی زاتہ جس کے وقوع کے فرج کرنے سے مال لازم نہ آئے لیکن کسی امرزائد کی بنسبت ہم نہیں مانتے کہ محال کو مستلزم نہیں(ت) |
شرح مقاصد میں فرماتے ہیں:
|
ان قیل ماعلم الله او اخبر بعد م بوقوعہ یلزم من فرض وقوعہ محال ھو جھلہ اوکذبہ تعالٰی عن ذٰلك و کل مایلزم من فرض و قوعہ محال فھو محال ضرور ۃ امتناع وجود الملز و م بدون الللازم،فجوابہ منع الکبری وانما یصدق لوکان لزوم المحال لذاتہ امالو کان لعارض کالعلم اوالخبر فبما نحن فیہ فلا لجو ازان یکون ھو مکنافی نفسہ ومنشاء لزوم المحال ھو ذٰلك العارض۔[2] |
اگر یہ کہا جائے کہ الله تعالٰی نے جس چیز کے عدم وقوع کو جانا یا اُس کی خبر دی ہو تو اس کے وقوع کے فرض سے محال لازم آئے گا وہ جہالت یا اس کا کذب ہے تو جب اس فرض وقوع سے محال لا زم آئے گا تو یہ بہر حال محال ہو گا کیونکہ لازم کے بغیر ملزوم کا وجود ممتنع ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کبرٰی نہیں مانتے،یہ تب سچّاہے کہ اگر لزوم محال لذاتہ ہو اوراگر کسی عارضہ کی وجہ سے ہو مثلا وُہ زیر بحث علم یا خبر ہو تو اس میں محال نہیں کیونکہ یہ فی نفسہٖ ہو سکتا ہے ممکن ہے اور لزوم محال کی عّلت وہ عارض بن رہا ہو۔(ت) |
غرض استحالہ ناشیہ عن نفس الذات وعن خارج میں فرق نہ کرکے بعض نے استلزام عارضی میں بھی استحالہ لازم بالذات سے استحالہ ملزوم بالذات کا حکم کیا جس کا محققین نے یوں حل کر دیا مگر ایسی جگہ امکان ملزوم سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع