30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ورو د نص کے سبب خلاف منصوص کو محال شرعی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کا وقوع محال عقلی یعنی کذبِ الٰہی کو مستلزم،شرح عقائد میں ہے:
|
لوو قع لزم کذب کلام الله تعالٰی وھو محال [1]۔ |
اگر قوع ہو جائے تو الله تعالٰی کے کلام کا کذب لازم آتا ہے جو محال ہے(ت) |
شرح فقہ اکبر میں ہے،
|
قال الله تعالٰی،لا یکف الله نفسا الا وسعھا،وعن ھذا النص ذھب المحققون ممن جوزہ عقلا من الا شاعرۃ الٰی امتنا عہ سمعا وان جاز عقلا ای والا لز م وقوع خلاف خبرہ سبحانہ[2]۔ |
الله تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے،الله کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر،اسی نص کی بنا پر ان اشاعرہ میں سے محققین اس طرف گئے ہیں جو اسے عقلا جائز سمجھتے تھے کہ شرعا محال ہے اگرچہ عقلا جائز ہے یعنی ورنہ الله تعالٰی کی خبر کے خلاف وقوع لازم آئے گا۔(ت) |
سبحان الله ! یہ تو عقل و فہم اور الٰہیات میں بحث کاوہم قولہ تو کسی کا اجارہ نہیں اقول: یوں تو تم
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) محالا لغیرہ و ذٰلك الغیرالمستحیل بالذات شیئا اٰخر قلت لم لا یجوزان یکون ھذا ھو ذٰ لك الغیر الا محال بالذات ولا جلہ سارملز و مہ محالا بالغیر فان تشبثت باحتمال تشبثنا باٰ خر و کنا مصیبین وکنت من الخاطئین لا نك مستدل بھذا الرلیل علی امکان الکذب امامد عیا واما غاصبا فکیف یکفیك عسٰی ولعل ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔ |
ہو اور یہ غیر جو محال بالذات ہو دوسری شیئ ہے میں کہوں گا یہ کیوں جائز نہیں کہ یہ غیر محال بالذات یہی ہو اور اس کی وجہ سے اسکا ملزوم محال بالغیر ہو اور اگر تم کسی اور احتمال سے استدلال کرو تو ہم مصیب اور تم خاطی ٹھہرو گے کیونکہ تم اس دلیل سے امکان کذب پر استدلال کیا تو تم یا تو مدعی ہو یا غاصب اب تمھارے لئے شاید یہ ہو امید ہے کہ ہو،کیسے کام آسکتا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع