30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورامام نسفی وغیرہ عــــــہ۱ بعض علما ء نے عفو کا فرکو بھی عقلا ناممکن جانا،امام ابن الہمام مسایرہ میں فرماتےہیں،
|
صاحب العمدۃ اختار ان العفو عن الکفر لا یعفو من الکفر ال یجوز عقلا۔[1] |
صاحب عمدہ کا مختار یہ ہے کہ کفر سے عفو عقلاَ جائز نہیں۔(ت) |
اس قائل سے پوچھئے انبیا ء و اولیا ء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا جنھوں نے کبھی اطاعت کے سوا کچھ گناہ نہ کیامعاذ الله دوزخ میں جانا اورکافروں مشرکوں کا جنت میں آنا محال شرعی بھی مانتا ہے یا نہیں،اگر نہیں تو اپنے ایمان کی فکر کرے اور علماء سے اپنا حکم پُوچھ دیکھئے اور اگر ہا ں تو ممتنع بالغیر ہو اورممتنع با لغیر وہی جس کا وقوع ماننا کسی ممتنع با لذّات کی طرف منجر ہو ورنہ لزوم ممکن سے استحالہ ممکن محض ناممکن،اب و ہ غیر کیا ہے،یہی لزوم کذب باری عزوجل،تو آپ ہی کی دلیل عــــــہ۲ سے ثابت ہوا کہ کذب بار محال ذاتی ہے،اسے ذی ہوش !
عــــــہ۱:طرفہ یہ کہ وہ ردالمحتار جس سے مدعیان جدید اس مسئلہ میں جہلا متمسك اس میں بھی یہی قول اختیار کیا اور اسی کو صحیح و معتمد قرار دیا،
|
حیث قل لکنہ مبنی علٰی جواز العفو عن الشرك عقلا ع وعلیہ یبتنی القول بجواز الخلف فی الوعید،و قد علمت ان الصحیح خلافہ فالد عاء بہ کفر لعد م جواز ہ عقلا و شرعا [2]۔ |
انھوں نے کہا یہ اس پر مبنی ہے کہ شرك کا عفو عقلا جائز ہے اور خلف وعید کا قول بھی اسی پر مبنی ہے اور آپ جان چکے صحیح قول اس کے خلاف ہے لہذا اس کا دعوٰی کفر ہے کیونکہ اس کا جواز نہ عقلا ہے نہ شرعا(ت) |
اور اس طرف اس کے ماخذ حلیہ کا کلام ناظرہ،
|
کمالا یخفی علٰی من طالعہ بامعان النظر والله الموفق ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔ عــــــہ ۲:فان قلت لم لا یجوز ایکون ھذا ایضا |
جیسا کہ مخفی نہیں ہر اس شخص پر جس نے گہری نظر سے مطا لعہ کیا ہو اور الله ہی توفیق دینے والا ہے ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔(ت) اگر یہ اعتراض کریں یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی محال لغیرہ (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع