30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمیع صحابہ رضوان الله تعالٰی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحۃ اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہلبیت عظام وغیرہم چند اکابر کرام علی مولا ھم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپناپیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں اس قسم کے کفرمیں علماء اہلسنت مختلف ہوگئے جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعوت وبدمذہبی وضلالت وگمراہی ہے،والعیاذ باﷲ رب العالمین(الله رب العالمین کی پناہ۔ت)امام علامہ قاضی عیاض رحمہ الله تعالٰی شفا شریف میں فرماتے ہیں:
|
من قال بالماٰل یؤدی الیہ قول ویسوقہ الیہ مذھبہ، کفرہ،فکانھم صرحوا عندہ بماادی الیہ قولھم،ومن لم یراخذھم بماٰل قولھم ولاالزمھم موجب مذھبھم لم یراکفارھم قال لانھم اذاوقفوا علی ھٰذا قالوا لا نقول بالماٰل الذی الزمتموہ لنا۔و نعتقد ونحن وانتم انہ کفر،بل نقول ان قولنا لا یؤل الیہ علی ما اصلنا،فعلی ھٰذین المأخذین اختلف الناس فی الکفار اھل التاویل والصواب ترك اکفار ھم [1] اھ ملخصا۔ |
جس نے اس مآل کی طرف دیکھا جس کی طرف اس کا قول مؤدی تھا جس کی طرف ا س کا مذہب چلا جاتا ہے تو اس نے اس کی تکفیر کی گویا اس نے ان کے مؤدی قول کو سمجھا ہے اور جنھوں نے ان کے مآل کو نہ دیکھا اورنہ ان کے تقاضا مذہب کا لزوم دیکھا انھوں نے تکفیر نہیں کی اس لئے جب وہ اس سے اگاہ ہوگئے توانھوں نے کہا ہم اس مآل کا قول دونوں اسے کفر تصور کرتے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اصل کے مطابق ہمارے قول کا وہ مآل ہی نہیں،ان دونوں ماخذوں کی وجہ سے اہل تاویل کے کفر میں لوگوں کااختلاف ہوا اور درست رائے یہی ہے کہ ان کے کفر کا قول نہ کیا جائے اھ ملخصا(ت) |
جب یہ امر ہو لیا تو اب ان امام وماموم کے کفریات لزومیہ ہوگئے۔امام کے کفروں کا شمار ہی نہیں اس نے توصرف انھیں چند سطروں میں جو تنزیہ سوم میں اس سے منقول ہوئیں کفروی لزومی کی ساتھ اصلیں تیارکیں جن میں ہراصل صدہا کفر کی طرف منجر اور اس کا مذہب مان کر ہرگز ان سے نجات نہ مفر،والعیاذبالله العلی الاکبر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع