30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوج التحقیق علی الخبیر سقطت(میں کہتاہوں الله کی توفیق سے،ا ور اس توفیق سے باخبر کو تحقیق کی بلندیوں پر عروج حاصل ہوتاہے۔ت)ہاں منشاء نزاع اس اطلاق کی تجویز ہے مجوزین نے خیال کیا کہ خلف وعید معاذالله کسی عیب ومنقصت کا نشان نہیں دیتا بلکہ عفو وکرم پر دلیل ہوتاہے اور محل مدح وستائش میں بولا جاتاہے ولہٰذا جابجا عرف عرب سے اس پر استناد کرتے ہیں۔قائل قائلھم(ان میں سے کسی کا قول ہے۔ت) ؎
وانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجزموعدی
(اگر میں نے اسے وعید سنائی یا اس سے وعدہ کیا تو اپنے وعید کا خلاف اور وعدہ کو پورا کرنیووالاہوں۔ت)
وقال اٰخر(اور دوسرے نے کہا۔ت): ؎
اذا وعد السراء انجزوعدہ وان اوعدا فالعفو مانعہ
(جب خوشحال لوگوں سے وعدہ کیا تو وعدہ پور ا کردیا اور جب فقراء کو وعید سنائی تو عفو اس کے مانع ہوگیا۔ت)
بنابراں خلف وعید کی تجویز کی۔محققین نے دیکھاکہ لفظ معنی محال یعنی تبدیل کا موہوم اور یہاں ایہام محال بھی منع میں کافی، کما نصوا علیہ فی مسئلۃ معقد العنز(جیسا کہ انھوں نے مسئلہ معقد العنز میں اس پر تصریح کی ہے۔ت)اور اس کے ساتھ وقوع تمدح صرف مخلوق میں ہے خالق عزوجل کا ان پر قیاس صحیح نہیں لاجرم اس تجویز سے تحاشی کی۔
خلاصہ یہ کہ آیات وعیدمیں بنظر ظاہر عموم عدم ایك صورت خلف میں ہے اگرچہ بنظر تخصیص وتقیید حقیقت خلف سے قطعا منزہ،مجوزین اسی خلف صوری کو خلف وعید سے تعبیر کرتے اور اسے جائز رکھتے ہیں کہ مفید مدح ہے اور محققین منع فرماتے ہیں کہ موہم نقص وقدح ہے ورنہ اگر خیال معنی کیجئے تو بلاشبہہ وہ جس امر کو خلف کہتے ہیں قطعا بالاجماع جائز وواقع،ولہذا علامہ شہاب الدین خفا کی مصری نے تسلیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں مسئلہ خلف کواہلسنت کا اتفاقی قرار دیا اور اس میں خلاف صرف معتزلہ کی نسبت کیا،
|
حیث قال الوعید لایجوز تخلفہ عند المعتزلہ لقولھم بانہ یجب علی اﷲ تعالٰی تعذیب العاصی [1]۔ |
جہاں کہاں کہ وعید کا تخلف معتزلہ کے ہاں جائز نہیں کیونکہ ان کا یہ مذہب ہے کہ خاص کو عذاب دینا الله تعالٰی پر لازم ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع