30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذی عقل(اوریہ ہر عقلمند پر ظاہر ہے۔ت)اورامام ابن امیر الحاج نے تو بحمد الله یہ امر باتم وجوہ منجلی کردیاکہ خود جواز خلف کو راجح مان کر اس معنی ناپاك تراشیدہ مدعی بیباك کی وہ بیخ کنی فرمائی جس کی غرب سے شرق تك خبر آئی۔یونہی امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں باآنکہ کلام امام ابو عمر وابن العلاء قائل جواز خلف کی وہ کچھ تائید کی جو اوپر گزر چکی۔جب معنی تبدیل کی نوبت آئی جس پر ان حضرات نے تفریع کی ٹھہرائی اس پر وہ شدید وعظیم نکیر فرمائی کہ کچ فہمی جاہل پر قیامت ڈھائی،اسی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
|
الخبرا ذاجواز علی اﷲ الخلف فیہ فقد جوز الکذب علی اﷲ تعالٰی وھذا خطاء عظیم بل یقرب من ان یکون کفرافان العقلاء اجمعوا علی انہ تعالی منزہ عن الکذب ومعلوم ان فتح ھذا الباب یقضی الی الطعن فی القراٰن وکل الشریعۃ اھ ملخصا [1]۔ |
یعنی جب خبر میں خلف الله تعالٰی پر جائز رکھا جائے تو بیشك کذب الٰہی کو جائز ماننا ہوگا اور یہ سخت خطا ہے بلکہ قریب ہے کہ کفر ہوجائے اس لئے کہ تمام عقلاء(یعنی نہ صرف اہل اسلام بلکہ سمجھ والے کافر بھی)اتفاق کئے ہوئے ہیں کہ باری تعالٰی کذب سے منزہ ہے۔اورمعلوم ہے کہ اس دروازے کا کھولنا قرآن مجید اور تمام شریعت میں طعن تك لے جائیگا اھ ملخصا۔ |
بس خدا کی شان ہی شان نظر آتی ہے کہ واضح روشن،ایمانی اجماعی مسائل ہیں مدعیان علم ودیانت و رشد ومشیخت اغوائے عوام وتلبیس مرام کویوں دیدہ ودانستہ کو یہ مفتری بن جاتے ہیں اور خوف خالق وشرم خلائق سب کو یك دست سلام کرکے ائمہ دین پر یوں کھلے بہتان جیتے طوفان اٹھاتے ہیں ؎
چشم بازو گوش باز وایں ذکا خیرہ ام درچشم بندے خدا
(آنکھیں کھولو،کان کھولو،اے بند ہ خدا! اس سے آنکھیں خیرہ ہیں۔ت)
فان کنت لاتدری فتلك مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم
(اگر تم نہیں جانتے تو یہ مصیبت وپریشانی ہے اور اگر جانتے ہو تو اس سے بڑھ کر آزمائش ہے۔ت)
بس زیادہ نہ کہو سوا اس کے کہ الله ہدایت دے آمین!
تنبیہ نبیہ:الحمد لله تحقیق ذروہ علیا کہ پہنچی اور عیارون طراروں کی افترا بندی اپنی سزا کو،اب صرف یہ امر قابل تنقیح رہا کہ جب خلف بمعنی تبدیل کے استحالہ پر اجماع قطعی قائم اور بمعنی مساوی عفو بالاجماع جائز بلکہ واقع تو علمائے مجوزین ومحققین مانعین میں نزاع کس امر پر ہے۔اقول: وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع