30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے گزرا"جواز الاصحاب بل ائبتوہ [1]"(اصحاب اسے جائز بلکہ اسے ثابت کرتے ہیں۔ت)تو ثابت ہوا کہ وہ علماء جسے خلف وعیدکہتے ہیں یقینا واقع،اب تم خلف کو ا س معنی ناپاك پر حمل کرتے ہو تو معاذالله الٰہی کے بالیقین واقع و موجود ہونے میں کیا کلام رہا،صدق اﷲ تعالٰی(الله تعالٰی نے سچ فرمایا۔ت):
|
" فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصٰرُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾"[2]۔ |
بیشك آنکھیں اندھی ہوتیں وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔والعیاذباﷲ سبحانہ وتعالٰی(الله سبحانہ وتعالٰی کی پناہ۔ ت) |
ثانیًا: تعیین تساوی سے قطع نظر بھی کیجئے تاہم آیہ کریمہ " وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ"[3](شرك سے نیچے معاف فرمادے گا۔ت)سے ان کا استدالال دلیل قاطع کو خلف عفو س خاص یامباین نہیں لاجرم مساوی نہ سہی تو عام ہوگا۔بہر حال وقوع مغفرت ووقوع خلف اور تمھارے طورپر وقوع خلف وقوع کذب کو مستلزم ہوکر کذب الٰہی یقینی الوقوع ٹھہرے گا اور کیا گمراہیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔
ثالثا: مختصر العقائد کی عبارت گزری کچھ دیر نہ ہوئی جس میں خلف وعد کو محال لکھ کر وعید مسلمین کے بارے میں دیکھ لیجئے کیالفظ لکھا یجوز ان یترك الوعید(وعید کا ترك کرنا جائز ہے۔ت)نہ کہا بلکہ صاف صاف یترك الوعید [4](وعید کو ترك کردیا۔ت)مرقوم کیا۔پھر ثبوت مدعا میں کیا کلام رہا۔
رابعًا: ان دلائل قاطعہ کے بعد تمھاری سمجھ کے لائق قاطع نزاع وواقع شغب یہ ہے کہ امام محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے اسی حلیہ میں جواسی ردالمحتار کی جس سے آپ ناقل(اس مقام میں)ماخذ صاف بتادیا کہ خلف وعید صرف عفو سے عبارت ہے۔اب آپ ہی بولئے کہ آپ کے مذہب میں عفو بالیقین واقع ہے یا نہیں۔اگر ہے تو وہی خلف ہے اور تم خلف کو اصل کذب سمجھے تو اپنے خدا کو یقینا کاذب کہہ چکے یا نہیں۔ حلیہ کی عبارت میں ہے:
|
الدعاء المذکور یستلزم انہ یجوز الخلف فی الوعید وظاھر المواقف والمقاصد |
دعا مذکور اس بات کو مستلزم ہے کہ خلف وعید جائز ہے۔مواقف اور مقاصد کے ظاہر سے ہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع