30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نبوۃ بنبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولکن جوز علی الانبیاء الکذب فیما اتوابہ ادعی فی ذٰلك المصلحۃ بزعمہ ام لم ید عھا فھو کافر باجماع [1]۔
|
ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا اعتقاد رکھتاہو باایں ہمہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام پر ان باتوں میں کہ وہ اپنے رب کے پاس سے لائے کذب جائز مانے خواہ بزعم خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے۔ہر طرح بالاجماع کافر ہے۔ (ت) |
سبحان اللہ! حضرت انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والثناء پر کذب جائز ماننے والا باتفاق کافر ہوا۔جنا ب باری عزوجل کا جواز کذب ماننے والا کیونکر بالاجماع کافر ومرتد نہ ہوگا۔اب تو جانا کہ تم نے اپنی جہالت و قاحت سے کفر واسلام میں تمیز نہ کی او رکفر خالص پر معاذالله ائمہ دین میں نزاع ٹھہرادی،سبحان اللہ! یہ فہم فقاہت یہ دین ودیانت اورا س پر عالم رشید بلکہ شیخ مرید بننے کی ہمت ع
آدمیاں گم شدند ملك خدا خر گرفت
(آدم ختم ہوگئے اور الله تعالٰی کے ملك پر گدھے نے قبضہ کرلیا۔ت)
ذرا یہ مقام یاد رکھئے کہ آپ کو خاتمہ اس سے کام پڑتاہے واﷲ المستعام علی ماتصفون،لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
حجت عاشرہ ظاہرہ باہرہ زاہرہ قاہرہ امر و ادھی من قرینتھا الاولٰی۔
اقول: وبالله التوفیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)ہنوز بس نہیں اگرچہ علماء مسئلہ خلف میں بلفظ جواز تعبیر کررہے ہیں مگر عقلی صافی ونظروافی نصیب ہو تو کھل جائے کہ وہ جس معنی پر خلف جائزکہتے ہیں اس معنی پر نہ صرف جائز بلکہ بالیقین واقع مانتے ہیں تو تمھارے زعم خبیث پرقطعالازم کہ ائمہ دین کذب الٰہی کو یقینا واقع وموجود بالفعل جانتے ہیں۔اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہوگا،دلائل لیجئے۔
اولا: ہم ثابت کرآئے کہ خلف وعفو ان کے نزدیك مساوی ہیں۔اورایك مساوی کا وقوع مساوی دیگر کو قطعا مستلزم خواہ تساوی فی التحقق ہو یا فی الصدق کہ اول کا توعین منطوق تلازم فی الوجود اور ثانی اس سے بھی زیادہ ادخل فی المقصود،فان الا نفکاك فی الوجود فی الصدق مع شی زائد(کیونکہ وجودمی ں انفکاک،صدق میں انفکاك ہی ہے بلکہ شی زائد کے ساتھ ہے۔ت)لیکن عفو بالیقین واقع ابھی شرح مقاصد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع