30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لان خلف الوعید کریم عندالعرب [1]الخ۔ |
کیونکہ خلف وعید عربوں کے ہاں سراپا کریم ہوتاہے۔(ت) |
ظاہر ہے کہ علمائے مجوزین اگر صرف امکان عقلی مانتے توآیت میں اس حمل کی انھیں کیا حاجت تھی کہ انتفائے شرعی جواز عقلی کے کچھ منافی نہیں۔
رابعا: قائلان جواز کے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ خلف وعیدصرف بحق مسلمین جائز ہےنہ بحق کفار۔عبارت حلیہ:
|
الاشبہ ترجح القول بجواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار [2]۔ |
مختار یہ ہے کہ خلف وعید کا قول مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ کفار کے لئے۔(ت) |
ابھی بحوالہ ردالمحتار گزری مگرمیں نے اس کی جگہ اور تحفے پیش کروں،مختصر العقائد میں ہے:
|
الملك ﷲ والناس عبیدہ ولہ ان یفعل بھم مایرید ولکن وعدان لایعذب احدا بغیر ذنب وان لایخلف المؤمن المذنب فی النار ویستحیل ان یخلف فی میعادہ وکذا اوعد ان یعذب المؤمن المذنب زمانا والکافر موبدا وکن قد یعفو عن المؤمن المذنب ولایعذبہ لانہ تکرم وتفضل فیترك الوعید،اما فی حق الکفار فلایکون العفو وان کان تکرما وتفضلا قال اﷲ تعالٰی ولو شئنا لاٰتینا کل نفس ھداھا،ولکن حتی القول منی الایۃ،اخبر انہ لایفعل مع الکفار الابطریق العدل [3]۔ |
ملك الله کا ہے تمام لوگ اس کے غلام ہیں الله تعالٰی ان کے بارے میں جو اپنے ارادہ کے مطابق کرسکتاہے لیکن اس نے وعدہ فرمایا وہ کسی کو گناہ کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔کسی مومن گنہگار کو ہمیشہ دوزخ میں نہیں ڈالے گا اور اس سے وعدہ کی خلاف ورزی محال ہے۔اس طرح اس نے مومن گنہگار کو کچھ وقت کے لئے اور کافر کو ہمیشہ کے لئے عذاب دینے کی وعید فرمائی ہے لیکن اگر وہ کسی مومن کو معاف فرما دیتاہے اور اسے عذاب نہیں دیتا تو یہ اس کا سراپا کرم وفضل ہے تو وعید کو ترك فرمادیتاہے رہا کفار کا معاملہ تو اس میں عفو نہیں اگر چہ عفو کرم وفضل ہی ہوتاہے الله تعالٰی کا فرمان ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ہر نفس کوہدایت دیں لیکن میرا قول حق ہے۔ الآیہ اس میں الله تعالٰی نے خبر دی ہے کہ کفار کے ساتھ صرف عدل کا معاملہ فرمائے گا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع