30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ربما یعدکرما [1]اھ ملتقطا۔ |
جیساکہ گزرچکا ہے۔اور وعدہ میں خلف ایسا قابل ملامت عمل ہے جو بالاتفاق کریم کے مناسب ولائق نہیں بخلاف خلاف وعید کے کہ اسے اکثر کرم ہی شنار کیا جاتاہے اھ ملتقطا ۔(ت) |
دیکھو علماء اس جواز خلف سے عذاب کے وجوب شرعی کو دفع فرماتے ہیں اور وجوب شرعی کا مقابل نہیں مگرجواز شرعی اگر صرف امکان عقلی مراد ہو تو وہ ان معتزلہ کے مذہب سے کیا منافی اور ان کی دلیل کا کیونکر نافی ہوگو وہ کب کہتے تھے کہ واجب عقلی ہے جو تم امکان عقلی کا قصہ پیش کرو۔تو ثابت ہواکہ یہ علماء بالیقین خلف وعید کو شرعا جائز مانتے ہیں۔
ثانیًا:محققین کہ جواز خلف نہیں مانتے۔آیہ کریمہ " مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ "[2](میرے ہاں قول میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ت)استدلال کرتے ہیں کما فی شرح عقائد النسفی وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما(جیساکہ شرح عقائد نسفی، شرح فقہ اکبر اور دیگر کتب میں ہے۔ت) اور پر ظاہر کہ آیت میں نفی وقوع صرف استحالہ شرعی پر دلیل ہوگی نہ کہ امتناع عقلی پر،تو لازم کہ وہ علماء جواز شرعی مانتے ہوں ورنہ محققین کی دلیل محل نزاع سے محض اجنبی اور امر نزاع کی نافہمی پر مبتنی ہوگی وہ نہ کہہ دیں گے کہ اس سے صرف استحالہ شرعی ثابت ہوا وہ امکان عقلی کے کب خلاف ہے جس کے ہم قائل ہیں۔
ثالثًا: واحدی نے بسیط میں آیہ کریمہ " اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾"[3](بیشك تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ت)سے صرف وعدہ مراد لیا اور وعید پر حمل کرنے سے انکار کیا کہ اس میں تو خلف جائز ہے۔تفسیر کبیر میں فرمایا:
|
احتج الجبائی بھذہ الاٰیۃ علی القطع بوعید الفساق (ثم ذکر احتجاجۃ والاجوبۃ عنہ الی ان قال)وذکر الواحدی فی البسیط طریقۃ اٰخریٰ۔فقال لم لایجوز ان یحمل ھٰذا علی میعاد الاولیاء دون وعید الاعداء |
جبائی نے وعید فساق کی قطعیت پراسی آیہ مبارکہ سے استدلال کیا(پھر اس کا استدلال اور اس کے جوابات ذکر کئے پھرکہا)اور واحدی نے بسیط میں ایك اور طریقہ ذکر کرتے ہوئے کہا یہ کیوں جائز نہیں کہ اسے وعدہ اولیاء پر محمول کرلیا جائے نہ کہ وعید اعدا پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع