30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے جس کے بعد امتناع بالغیر بھی نہیں رہتا۔دلائل سنئے:
|
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۱ صفحہ گزشتہ) اشتباہ یجب التنبیہ لہ وقد اوضحناہ علی ہامشہ ولو لا ان عرضنا فی المقام لایتعلق بنقد ذٰلك لاتینا بالتحقیق فیما ھنالکن ثم من البدیھی ان امکان عدم التعذیب عقلا مع استحالتہ شرعا ادخل فی الرد علی ھٰؤلاء الجھلۃ کما لایخفی علی عاقل فضلا عن فاضل و سنلقی علیك تحقیقہ فیما سیأتی فی رد الوھابیۃ الدیوبندیۃ فانتظر واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ۔ |
علامہ ش سے جو واقع ہوا یہ اشتباہ ہے جس پر تنبیہ ضروری ہے اور ہم نے اس کے حاشیہ پر اس کی وضاحت کردی ہے اگر ہماری غرض اس مقام پر تنقیدکرنا ہوتی تو ہم اس تحقیق کو یہاں کردیتے۔پھر یہ بات بدیہی ہے کہ عقلا عدم عذاب کا محض امکان جو شرعا محال ہے ان جہال کے رد کا ذریعہ بنتاہے جیساکہ کسی عاقل پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی ہو۔ عنقریب اس کی تفصیل وتحقیق وہابیہ دیوبندیہ کے رد میں آرہی ہے تھوڑا سا انتظار کرو۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲منہ قدس سرہ،(ت) |
|
(بقیہ حاشیہ عــــــہ۲ صفحہ گزشتہ) فی کلامہ علی ھٰذین الخلفین وزعم تبعا فالحق ان محل النزاع المشہور ھوالجواز الشرعی وکلامھم انما ھو فی مطلق الخلف وتحقیق الحق فی محصلہ ماسنلقی علیك واﷲ الھادی ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ۔للحلیۃ ان الاشبہ ترجح جواز الاول عقلا فاوھم ان جوازہ العقلی مختلف فیہ واوھم ایھا مًا اشد واعظم ان المحققین علی انکارہ وان کان الاشبہ عندہ ترجح الجواز مع انا لانعلم فیہ نزاع اصلا ولانظنہ محل نزاع وان کان فلا شك ان عامۃ الائمۃ علی الجواز ثم اوھم بل صرح اٰخر ان الصحیح عن المحققین منع الثانی عقلا مع ان الامر بالعکس |
پر منع مذکور ہوا اور حلیہ کی اتباع میں اس نے عقلا جوا زاول کی ترجیح کو مختار محسوس کرلیا تو اسے یہ وہم ہوگیاکہ اس کے جواز عقلی میں اختلاف ہے یہ وہم شدید ہے محققین تو اس کا نکار کررہے ہیں اگرچہ اس کے ہاں مختار جواز کو ترجیح دینا ہے حالانکہ ہم تو اس میں نزاع کا علم نہیں رکھتے اورنہ ہی محل نزاع کا گمان کرے ہیں اور اگرہے تو بلاشبہہ اکثر ائمہ جواز پر ہیں پھر وہم میں پڑتے ہوئے آخر تصریح کی کہ محققین کے ہاں صحیح یہ ہے کہ دوسری صورت عقلا منع ہے حالانکہ معاملہ برعکس(باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع