30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹھہراتے ہیں کہ یہی مغفرت سے مساوی ہے نہ کہ معاذالله تبدیل وتکذیب خبر کہ عفو سے عموم وخصوص دونوں رکھتی ہے مثلا درگزر بر بنائے تخصیص نصوص وتقیید وعید واقع ہوئی تو عفو موجود اور تبدیل مفقود،کسی جرم پر ایك سزائے شدید کی وعید حتمی اور ایقاع کے وقت اس میں کمی کی تو عفو عــــــہ مفقود اور تبدیل موجود۔اوراگر عفو تخفیف کو شامل کیجئے تو عام مطلقًا سہی بہر حال خلف کہ اس کا مساوی ہے کذب سے قطعا عام مطلقًا یا من وجہ اب تو اپنی جہالت فاحشہ پر متنبہ ہوئے کہ جواز اعم امکان اخص کا مستلزم مان رہے ہو فالحمداﷲ علی اتمام الحجۃ وایضاح المحجۃ۔
حجت تاسعہ قاہرہ قالعہ قاتلہ قارعۃ بارغۃ التبیین دامغۃ الکذابین:اقول: وبالله االتوفیق(میں الله تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)ایہاالمسلمون! ذرا قلب حاضر درکار اسی مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے کذب باری عزوجل کا صرف امکان عقلی ہی ائمہ دین کی طرف نسبت نہ کیا۔بلکہ معاذالله انھیں کفر صریح کا قائل قرار دیا۔پھر الحمد الله ان کا دامن سنت مامن تو کفرو ضلالت کے ناپاك دھبوں سے پاك ومنزہ مگر حضرت خودہی اپنے ایمان کی خیر منائیں۔یوں نہ مانیں تو مفصل جانیں۔اصل مراد یہ ہے کہ خلف بایں معنی کہ متکلم بایك بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبرت دی تھی اس کے خلاف عمل میں لائے۔ بلاشبہہ اقسام کذب سے ہے کہ کذب نہیں مگر خلاف واقع خبردیناتو اس معنی پر خلف کو ممکن یا سائغ یا واقع یا واجب جو کچھ مانئے بعینہٖ وہی حکم کذب کے لئے ثابت ہوگا کہ یہ جانب وجود ہے اور جانب وجود میں قسم مقسم کو مستلزم اور عقل احکام قسم سے مقسم پر حاکم کہ اس کا وجود بے اس کے محال وناممکن تو لاجرم اس کا امکان اس کے جواز اوراس کا وجود اس کے وقوع اور اس کا وجوب اس کی ضرورت کو لازم۔حضرت مدعی جدید نے اپنی جہالت وضلالت سے کلام علماء میں خلف کے یہی معنی سمجھے کہ باری تعالٰی عیاذًا بالله بات کہہ کرپلٹ جائے خبر د کر غلط کردے لہٰذا جواز خلف پر امکان کذب کو متنفرع کیا حالانکہ حاشاﷲ عالم میں کوئی عالم اس کا قائل نہیں بلکہ وہ صراحۃ اس معنی مردود مخترع عنود کا ردبلیغ فرماتے او جواز خلف کو تخصیص نصوص وتقیید وعید وغیرہما ایسے امور پر بربناکرتے ہیں جن کے بعد نہ معاذالله کہہ کر پلٹنا نہ بات کا بدلنا ہو اس امر پر دلائل قاہرہ وتصریحات باہر سن ہی چکے ہیں مگر ان حضرت کو
|
عــــــہ:المغفرۃ وقایۃ شرالذنوب بالکلیۃ [1] اھ ۱۲ رضی اﷲ عنہ۔ |
مغفرت گناہوں کے شر سے کلیۃً محفوظ رہنا ہے اھ ۱۲ رضی الله عنہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع