30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعذابہ فانہ محال علی اﷲ تعالٰی قطعا،کما ان عدم وقوع نعیم من اراداﷲ الاخبار عنہ بالنعیم محال علیہ قطعا کیف لا وقد قال تعالٰی " وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾" " وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾" "وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖۚ"[1] ۔ |
اس کا عذاب واقع نہ ہویہ الله تعالٰی پر قطعا محال ہے جس طرح یہ بالیقین ممکن نہیں کہ اس نے جس کے لئے نعیم کی خبر دی ہو اس کے لئے نعیم واقع نہ ہو اور کیوں کر نہ ہو اس کی ؒخبر کا کذب محال ہے۔حالانکہ وہ خود فرماتاہے الله سے کس کا قول سچاہے،الله سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔تیرے رب کی باتیں سچ اور عدل میں کامل ہیں،کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔ |
کیوں ایمان سے کہنا یہ وہی علماء ہیں جن پر تم امکان کذب ماننے کا بہتان کرتے ہو۔لله حیا دے۔
حجت ثامنہ بقطع عرق ضلالت ضامنہ۔اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں الله کی توفیق سے کہتاہوں اور اسی کی توفیق سے تحقیقی بات کو پایاجاسکتاہے۔ت)علمائے مجوزین کے طریق استدلال ومناظرہ وجدال شاہد عدل ہیں کہ ان کے نزدیك خلف وعید وعفو ومغفرت میں نسبت تساوی اور دونوں جانب سے ترفق کلی ہے،ثبوت سنئے قریب گزرا کہ انھوں نے اپنے دعوے پر آیہ کریمہ " وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ"[2](او کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے گا۔ت)سے استدلال کیا۔اور حلیہ پھر ردالمحتار میں جس سے آپ ہمیشہ کے لئے اپنے پیچھے ایك آفت لگانے کو ذر ا سا ٹکڑا نقل کرلائے۔اس دلیل کو انص واظہر دلائل مجوزین کہا اور پر ظاہر کہ آیت صرف جواز مغفرت ارشاد فرماتی ہے اسی کو انھوں نے جواز خلف پر دلیل ٹھہرایا تو ان کا استدلال برہان قاطع کہ وہ مغفرت کو خلف سے عام نہیں مانتے کہ جواز اعم ہر گز جواز اخص کا مثبت نہیں ہوسکتا اور عنقریب آتاہے کہ معتزلہ نے امتناع عفو پر آیات وعید سے تمسك کیا۔اس پر ان علماء نے جواب دیا کہ خلف جائز ہے تو لاجرم جواز خلف کو امتناع عفو کا رد مانا اور زنہار جواز اعم امتناع اخص کا نافی نہیں ہوسکتا۔تو ان کا یہ جواب دلیل ساطع کو وہ خلف کو مغفرت سے عام نہیں مانتے۔،رہا تباین وہ بالبداہۃ اور خود اس رد واثبات سے سے بین البطلان پس تساوی متعین اور مراد متبین،یعنی ظاہر ہوگیا کہ وہ صرف عدم وقوع وعید بوجہ عفو کو خلف سے تعبیر فرماتے اور جائز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع