30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برتقدیر کذب معتزلہ علمائے اہلسنت کیوں نہیں فرماتے کہ تم نے وہ حکایت گھڑی جو آپ ہی اپنے کذب کی دلیل ہے،مجوزین خلف توامکان کذب مانتے ہیں پھر امام اس الزام پر بند کیوں ہوجاتے۔
ثانیًا: آگے چل کر امام رازی امام ابن العلاء کی طرف سے اچھا جواب دیتے ہیں کہ میرے مذہب میں سب وعیدیں مقید ہیں۔سبحان اللہ! جب وعیدیں مقید ہوں گی تو امکان کذب کدھر جائے گا۔کیوں نہیں کہتے کہ میرے مذہب میں کذب ممکن تو الزام ساقط،غرض بے شمار وجوہ سے ثابت کہ مدعی جدید غیر مہتدی ورشید نے علماء کرام پرجیتا طوفان باندھا۔
حجت سابعہ،اقول: آپ کی یہی ردالمحتار جس سے آدھا فقرہ نقل کرکے ائمہ دین پر پوری تہمت کردی،اس مبحث میں حلیہ امام علامہ ابن امیر الحاج ناقل ہے شروع عبارت یوں ہے:
|
واقفہ علی الاول صاحب الحلیۃ المحقق ابن امیر الحاج وخالفہ فی الثانی وحقق ذٰلك بانہ مبنی علی مسئلۃ شھیرۃ وھی انہ ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاھر مافی المواقف [1] الخ۔ |
صاحب حلیۃ محقق ابن امیر الحاج نے اول میں اس کی مواقف کی ہے اور ثانی میں مخالف،اور ثابت کیا کہ اس کامدار ایك مشہور مسئلہ پرہے اور وہ یہ ہے کہ کیا خلف وعید جائزہے۔تو مواقف میں جو کچھ ہے تو وہ ظاہر ہے الخ۔(ت) |
اور ختم یوں ھذاخلاصۃ مااطال بہ فی الحلیۃ [2](یہ حلیہ میں ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔ت)اور یہ صاحب حلیہ خود مسلمانوں کے حق میں جواز خلف کو ترجیح دیتے ہیں،اسی ردالمحتارمیں ان سے منقول:
|
الاشبۃ ترجح جواز الخلف فی الوعید فی حق المسلمین خاصۃ دون الکفار [3]۔ |
اشبہ ومختار یہ ہے کہ خلف وعید کا جواز خاص مسلمانوں کے حق میں ہے نہ کہ کفار کے حق میں ہیں۔(ت) |
اب ملاحظہ ہوکہ یہی امام قائل جوازخود آپ کی اس تفریح شنیع یعنی امکان کذب سے کیسی سخت تحاشی کرتے ہیں۔ اسی حلیہ میں بعد ختم بحث کے فرمایا:
|
وحاش ﷲ ان یراد بجواز الخلف فی الوعید ان لایقع عذاب من اراداﷲ الاخبار |
یعنی حاشا ﷲ خلف وعید جائز ہونے کے یہ معنی نہیں کہ الله عزوجل نے جس کے عذاب کی خبر دینی چاہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع