30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ[1]۔ |
بیشك الله تعالٰی کفر کو معاف نہیں فرماتا اور کفر سے نیچے جنتے گناہ ہیں جسے چاہے گا بخش دے گا۔(ت) |
یوں ہی اس کی ماخذ حلیہ شرح منیہ میں امام محقق ابن امیر الحاج میں ہے اور پر ظاہر کہ دعوٰی دلیل پر متفرع اور اس کے مفاد کا تابع ہوتاہے،سبحان الله ! جب جواز خلف خو د ارشاد متکلم بالوعید جل مجدہ کی طرف مستند کہ اس نے فرمادیا"ہم جسے چاہیں گے بخش دیں گے"تو دلیل امکان کذب کو اصلا راہ نہیں دیتی مگر مدلول میں زبردستی خدا واسطے کو مان لیا جائے گا اس جہالت کی کوئی حد ہے آپ کے نزدیك یہ علماء اپنے دعوٰی ودلیل کی بھی سمجھ نہ رکھتے تھے کہ خلف تو اس معنی پر جائز مانیں جسے امکان کذب لازم،اور دلیل وہ پیش کریں جو اس معنی کی بالکل قاطع وحاسم،خدارا اپنی جہالتیں،سفاہتیں علماء کے سرکیوں باندھتے ہو، ع
اس آنکھ سے ڈرئےے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
لله ! انصاف! اگر بادشاہ حکم نافذ کرے کہ جو یہ جرم کرے گا یہ سزا پائے گا اور ساتھ ہی اسی فرمان میں یہ بھی ارشاد فرمایئے کہ ہم جسے چاہیں گے معاف فرمادیں گے تو کیا اگر وہ بعض مجرموں سے درگزر کرے تو اپنے پہلے حکم میں جھوٹا پڑے گا یا اس آئین کی قدرلوگوں کے دلوں سے گھٹ جائے گی،جیسا کہ وہ احمق جاہل دعوٰی کرتاہے یا اگر کوئی شخص بدلیل اس دوسرے ارشاد کے ثابت کرے کہ بادشاہ نے جو سزا مقررفرمائی ہے کچھ ضرور نہیں کہ ہو ہی کر رہے بلکہ ٹل بھی سکتی ہے تو کیا اس کے قول کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ بادشاہ کا کذب مجتمل مانتا ہے،ذرا آدمی سمجھ سوچ کر تو بات منہ سے نکالے،سبحن اللہ! جس ردالمحتار سے سند لائے اسی میں وہیں اسی بیان میں اسی صفحہ میں وہ صاف وروشن تصریحیں موجود ہیں جن سے اس تفریع ناپاك کی پوری قلعی کھلتی ہے،حضرت ایك ذرا سا ٹکڑا نقل کر لائیں اور باقی بالکل ہضم،گویا دیکھا ہی نہیں۔اسی کانام دین ودیانت ہے۔اسی پر دعوٰی رشد وہدایت ہے۔مگر حضرات وہابیہ عادت سے مجبور ہیں،نقل عبارت میں قطع وبریداب صاحبو کا داب قدیم رہاہے۔ یہاں تك کہ ان کے متکلمین نے رسالے کے رسالے جی سے گھڑ کر علمائے سابقین کی طرف نسبت کردیئے۔انتہی یہ کہ عالم و امام دل سے تراشے کہ باوجود تکرار مطالبہ تمام عالم میں ان کے وجود کا پتا نہ دے سکے۔فقیر کے بعض احباب سلمہم الله تعالٰی نے رسالہ"سیف المصطفی علی ادیان الافتراء"اسی باب میں لکھا اور اس میں ان حضرات کے عمائد واکابر کی ڈیڑھ سوسے زیادہ ایسی ہی عبارتوں،بددیانتوں کا ثبوت دیا۔واقعی حضرات نجدیہ نے ایك حدیث صحیح عمر بھر کے عمل کو بس سمجھی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع