30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ کذب اس وقت اسے عارض ہوتاہے جس کے لئے وجود معروض درکارتھا،وہ جس وقت موجود تھی اسی وقت بوجہ مخالفت واقع کاذب تھی گو ظہور کذب بعدکی ہو یا کبھی نہ ہو،اب انسان ہی میں دیکھئے اس کا کلام کہ عرض ہے اور عرض علمائے عــــــہ متکلمین کے نزدیك صالح بقا نہیں فورا موجود ہوتے ہی معدوم ہوجاتاہے، باایں ہمہ جب اس کا خلاف واقع ہوتا،کہتے ہیں کہ فلاں کی بات جھوٹی تھی،غرض اس نفیس جواب ملائے عجاب اور ان دوہذیان تباہ وخراب کی قدران کے مثل مجانین ہی جانتے ہوں گے،یا معاذالله عفوالٰہی بشرط صلاحیت کام نہی فرمائے تواس کی سچی قدر اس دن کھلیے گی " یَّوْمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۶﴾"
[1](جس دن سب لوگ رب لعالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔ت)
الحمد للہ! یہ حضرت کی چند سطری تحریر پر بالفعل پنتیس کوڑے ہیں اور پانچ ہذیان اول پر گزرے تو پورے چالیس تازیانے ہوئے،واقعی معلم طائفہ نے بغلامی معلم الملکوت ہمارے مولٰی پر کذب وعیوب کا افترائے ممقوت کیا،اور شرعی میں افتراء کی سزا اسی کوڑے مگر غلام کے حق میں آدھی " فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ؕ "[2](تو ان پر اس کی سزا آدھی جو آزاد عورتوں پر ہے۔ت)تو چالیس کوڑے نہایت بجا واقع ہوئے،الله عزوجل سے آرزو کہ قبول فرمائے اور ان تازیانون کو متبوع کے حق میں نکال وعقوبت تابع کےلئے ہدایت وعبرت،اہل سنت کے واسطے قوت واستقامت بنائے،آمین یا ارحم الراحمین! بیشك ہماری طرف کے علماء"شکر الله مساعیہم الجمیلۃ"نے حضرت کے ہذیان دوم کی بھی ضرور دھجیاں لی ہوں گی مگر اس وقت تك فقیرکی نظر سے اس بارے میں کوئی تحریر نہ گزریك جو کچھ حاضر کیا بحمدالله القائے ربانی ہے کہ عبد ضعیف پر فیض لطیف سے فائض ہوا،امید کرتاہوں کہ ان شاء الله العزیز اس بسلط جلیل ووجہ جمیل پر نقدجزیل حصہ خاص فقیرذلیل ہے۔
عــــــہ:بلکہ مذہب بقا پر بھی مدعا حاصل،لفظی غیر قار کاانعدام تو ظاہر اور نفسی نسبت مخلوط بالارادہ ملحوظ بقصد الافادہ کانام ہے،پر ظاہر کہ ارادہ افادہ ادائم نہیں،اور جو کچھ بعدکو محفوظ رہے صورت علمیہ ہے،نہ کلام نفسی،معہذا بحالت نسیان وہ بھی زائل،علاوہ بریں روح انسانی اگرچہ اہل سنت کے نزدیك فنا نہ ہو گی مگر قطعا ممکن الانعدام اس کے ساتھ اس کے سب صفات معدوم ہوسکتے ہیں ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع