30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
m بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾"[1] |
پاس کوئی وکالت کرنے والا نہ پاتے۔(ت) |
حاصل یہ کہ امکان کذب ماننا تکذیب قرآن کو اسی صورت میں مستلزم کہ آیات قرآن محفوظ رہیں حالانکہ ممکن کہ الله تعالٰی قرآن ہی کو فنا کردے،پھر تکذیب کا ہے کی لازم آئے۔
اقول: ایھا المؤمنون! دیکھو صاف صریح مان لیا کہ خدا کی بات واقع میں جھوٹی ہوجائے تو ہوجائے اس میں کچھ حرج نہیں، حرج تو اس میں ہے کہ بندے اسے جھوٹا جانیں،یہ اسی تقدیر پر ہوگاکہ آیات باقی رہیں جن کے ذریعہ سے ہم جان لیں گے کہ خدا کی فلانی بات جھوٹی ہوئی اور جب قرآن ہی محو ہوگیا پھر جھوٹی پڑی تو کسی کوجھوٹ کی خبر بھی نہ ہوگی تکذیب کون کرے گا،غرض سارا ڈر اس کا ہے کہ بندوں کے سامنے کہیں جھوٹا نہ پڑے واقع میں جھوٹا ہوجائے توکیا پروا،انا ﷲ وانا الیہ راجعون (ہم الله کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے۔ت)اے سفیہ ملوم! یہ تیرا خدائے موہوم ہوگا جو بندوں کے طعنوں سے ڈرکر جھوٹ سے بچنے اور ان سے چرا چھپا بہلا بھلا کر خوب پیٹ بھر کر بولے ہمارا سچا خدا بالذات ہر عیب ومنقصت سے پاك ہے کہ کذب وغیرہ کسی میں نقصان کو اس کے سرا پردہ عزت تك بار ممکن نہیں،اور جو افعال اس کے ہیں حاشا وہ ان میں کسی نہیں ڈرتا،" وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾"[2](الله جو چاہے کرے۔ت) " یَحْکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾ "[3](حکم فرماتاہے جو چاہے۔ت) اس کی شان ہے اور" لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾"[4](ا س سے نہیں پوچھا جاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔ ت) اس کے جلال عظیم کا بیان" وَ لَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ"[5]" سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪"[6] (اور اس کے لئے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے۔ت)
تازیانہ ۳۲:رب جلیل کوخلق کا خوف ماننا حضرت کا قدیمی مسلك ہے تقویت الایمان میں بھی بحث شفاعت میں فرماگئے: "آئین بادشاہت کا خیال کرکے بے سبب درگزر نہیں کرتا کہ کہیں لوگوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع