30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملیں گے کہ جو کچھ باختیار صادر ہو قدیم نہیں تولاجرم صدق الٰہی حادث ٹھہرا اور ہر حادث ازل میں معدوم اور ازل کیلئے نہایت نہیںَ تو بالیقین لازم کہ ازل غیر متناہی میں مولٰی تعالٰی سچانہ رہا ہوا اور جب سچا نہ تھا تو معاذالله ضرور جھوٹا تھا للانفصال الحقیقی بینہما(کیونکہ ان دونوں کے درمیان انفصال حقیقی ہے۔ت)پھر ضلال پلشت کا چہرہ زشت چھپانے کو کیوں کہتے ہو کہ کذب الٰہی ممکن ہے،کیوں نہیں کہتے کہ خدایئے موہوم طائفہ ملوم کروڑوں برس تك جھوٹا رہ چکاہے،پھر اب بھی اپنی پرانی آن پر آئے تو کیا ہے،تعالٰی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(الله تعالٰی اس سے بہت بالا ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔ت)
تازیانہ ۳۱:میں نے بارہا قصد کیا کہ تازیانوں میں دس بیس تیس پربس کروں مگر جب ان حضرت کی شوخیاں بھی مانیں وہاں تو ؎
زفرق تابقدم ہر کجا کہ مے بنگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست
(سر کی مانگ سے لے کر قدم تك ہر جگہ پر نظر ڈالو دامن دل ہر جگہ کے بارے میں کہے گا جگہ یہی ہے۔ت)
اسی رسالہ یکروزی میں عبارت مذکور ہ سے دو سطر اوپر جو نظر کروں تو وہاں تو خوب ہی سانچے میں ڈھلے ہیں یہاں عروس مذہب کے جمال مطلب پر پردہ تقیہ تھا وہاں حضرت بے نقاب چلے ہیں،اعتراض تھا کہ اگر حضور سید علم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا مثل یعنی تمام اوصاف کمالیہ میں حضور کا شریك من حیث ھو شریك ممکن ہو تو خبر الٰہی کا کذب لازم آئے کہ وہ فرماتا ہے:
|
" وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ"[1]۔ |
لیکن الله کے رسول اور انبیاء کے آخری ہیں۔(ت) |
اور وصف خاتمیت میں شرکت ناممکن،حضرت اس کا ایك جواب یوں دیتے ہیں:
|
بعداخیتار ممکن ست کہ ایشاں رافراموش گردانیدہ شود پس قول بامکان وجود مثل اصلا منتج بتکذیب نص ازنصوص نگردد وسلب قرآن مجید بوصف انزال ممکن ست داخل تحت قدرت الہیہ،کما قال اﷲ تعالٰی " وَ لَئِنۡ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ |
اختیار کے بعد یہ ممکن ہے کہ اس آیہ کریمہ کی بھول ہوجائے تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مثل کے وجود کے امکان والی بات نصوص میں سے کسی نص کی تکذیب بالکل نہ ہوگی جبکہ نازل شدہ قرآن کا سلب ممکن ہے جو الله کی قدرت کے تحت داخل ہے جیساکہ الله تعالٰی نے فرمایا اگرہم چاہیں تو آپ کی طرف کی ہوئی وحی کو اٹھالیں پھر آپ ہمارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع