30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نام ونشان نہیں۔ثبوت لیجئے اگر اس کے مذہب میں کذب الٰہی ممکن بالذات وممتنع بالغیر ہوتا تو نظیریں وہ دیتا جن میں ممتنع بالذات ہوکہ دیکھو جہاں امتناع ذاتی ہوتاہے عدم کذب باعث مدح نہیں ہوتا اور باری عزوجل کے لئے مدح ہے تو اس کے حق میں امتناع ذاتی نہیں،مگر برخلاف اس کے مثالیں وہ دیں جن میں امتناع ذاتی کا پتہ نہیں،مثلا جس کا منہ بند کرلیں یا گلا گھونٹ دیں اوراس وجہ سے وہ جھوٹ نہ بول سکے تو پر ظاہر کہ بولنے پریقینا قادر،اگر بالفرض امتناع ہے تو اس عارض کی وجہ سے تو نہ ہوا مگر امتناع بالغیر امام نجدیہ اسے بھی مانع مدح جان کر باری عزوجل سے صراحۃ سلب کرتا ہے پھرکیوں منافقانہ کہا تھا،"ممتنع بالغیر ست"(کذب باری تعالٰی ممتنع بالغیر ہے۔ت)صاف کہا ہوتا"اصلا ازامتناع بالغیر ہم بہرہ ندارد"(امتناع بالغیر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ت)اے حضرت! دور کیوں جائے پہلی بسم الله اخرسی وجمادہی کی نظیر لیجئے بھلا اخرس تو انسان ہے،جماد کے لئے بھی کلام محال شرعی تك نہیں صرف محال عادی ہے کتب حدیث دیکھئے بطور خرق عادت ہزار بار پتھروں جمادوں سے کلام واقع ہوا اور ہزار ہا بار ہوگا قریب قیامت آدمی سے اس کا کوڑا باتیں کرے گا،جب اہل اسلام یہود عنود کو قتل کریں گے اور وہ پتھروں درختوں کی آڑ لیں گے شجر وحجر مسلمان سے کہیں گے اے مسلمان آ یہ میرے پیچھے یہودی ہے،اسی طرح سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے گونگے کاکلام کرنا احادیث میں وارد،الله عزوجل فرماتا ہے:
|
" وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمْ لِمَ شَہِدۡتُّمْ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ"[1] |
کافر اپنی کھالوں سے بولیں گے تم نے کیوں ہم پر گواہی دی،وہ بولیں گی ہمیں اس الله نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گواہی بخشی۔ |
اگر کلام جماد واخرس ممتنع بالغیر یا محال شرعی ہوتا زنہار وقوع کانام نہ پاتا کہ ہر ممتنع بالغیر کا وقوع اس غیر یعنی ممتنع بالذات کے وقوع کومستلزم،تو وقوع نے ظاہر کردیاکہ صرف خلاف عادت ہے جب وقوع کلام ثابت اور ان کے استحالہ کذب پر ہر گز کوئی دلیل عقلی نہ شرعی،تو یقینا اس کے لئے بھی جواز قوعی جو امتناع بالغیر کا منافی قطعی،اب جیوٹ بہادر استدلال کرتاہے کہ ایساعدم کذب مفید مدح نہیں ہوتا،اور باری عزوجل میں مدح ہے،تولاجرم وہاں ایسا عدم بھی نہ ہوگا،اتناتو اس کے کلام کا منطوق صریح ہے،آگے خود دیکھ لیجےے کہ اخرس وجماد میں کیسا عدم تھا جس کو باری عزوجل میں نہیں مانتا،زنہار نہ امتناع عقلی تھا نہ استحالہ شرعی بلکہ صرف استعباد عادی تو بالضرور ملا ئے بیباك اپنے رب میں کذب کو مستعبد بھی نہیں جانتا،العظمۃ اللہ! اگر لازم قول قول ٹھہرنے تو اس سے بڑھ کر کفر جلی اور کیا ہے،مگریہ حسن احتیاط الله عزوجل نے ہم اہلسنت ہی کو عطا فرمایا،ا ہل بدعت خصوصا نجدیہ کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع