30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منافات نہیں رکھتا تو غایت مدح اس کے لئے یہ ہے کہ جہاں تك بنے اس ممکن سے بچے اور تلوث سے بھاگے،ولہذا جہاں بوجہ فقدان اسباب وآلات بعض معائب وفواحش کی استطاعت نہ رہے وہاں مدح بھی نہ ہوگی جیسے نامرد لنجھے اپاہج گونگے کا زناکرنا،چوری کو نہ جانا،جھوٹ بولنا کہ مناط مدح کے دور بھاگنا اورت اپنے نفس کا باز رکھتاتھا یہاں مفقود،اور جب امکان ہے تو کیا معلوم کہ عصمت بی بی از بیچاری نہیں شاید اسباب سالم ہوتے تو مرتکب ہوتا،سفیہ جاہل نے اپنے رب جل وعلا کو بھی انھیں گونگوں لنجھوں بلکہ اینٹوں پتھروں پر قیا س کیا اور جب تك عیب ونقصان سے متصف نہ ہوسکے عدم عیب کو مدح نہ سمجھاحالانکہ یہ مدح اول وکمال حقیقی تھا کہ وہ اپنے نفس ذات میں متعالی و قدوس وسبوح وواجب الکمالات و مستحیل القبوح ہے تعالٰی وتقدس تو یہاں عیب ممکن سے باز رہنے اور بطور ترفع بالقصد بچنے کی صورت ہی متصور نہیں،نہ حاش لله یہ اس کے حق میں مدح بلکہ کمال مذمت وقدح ہے،واﷲ العزۃ جمیعا(تمام عزت الله تعالٰی کے لئے ہے۔ت)ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
تنبیہ نفیس:ایھا المسلمون! ایك عام فہم بات عرض کروں،سفیہ جاہل کا سارا مبلغ یہ ہے کہ کذب پر قدرت پاکر ہی اس سے بچنا صفت کمال ہے نہ کہ کذب ممکن ہی نہ ہو ا،اقول: جب کذب ممکن ہوا تو صدق ضروری نہ رہا،اورجو ضرورری نہیں وہ ممکن الزوال،تو حاصل یہ ہواکہ کمال وہی ہے جسے زوال ہوسکے اور جو ایسا کمال ہو،جس کا زوال محال تو کمال ہی کیا ہے،سبحان اللہ! یہ بھی ایك ہی ہوئی،او احمق! کمال حقیقی وہی ہے جس کا زوال امکان ہی نہ رکھے،ہر کمال قابل زوال عارضی کمال ہے نہ ذاتی کمال،مسلمانو! لله انصاف! باری عزوجل کا مصدق یو ں ماننا کہ ہے تو سچا مگر جھوٹا بھی ہوسکتا ہے،یہ کمال ہوا یا یوں کہ وہ سبوح قدوس تبارك وتعالٰی ایسا سچا ہے جس کا جھوٹا ہونا قطعا محال،اہل اسلام ان دونوں باتوں کو میزان ایمان میں تول کردیکھیں کہ کون گستاخ بے ادب اپنے رب کی تنزیہیہ کو بدعت وضلالت جاننے والا بحیلہ مدح اس کی مذمت وتنقیص پراترتا ہے اور کون سچا مسلمان صحیح الایمان اپنے مولٰی کی تقدیس کو اصل دین ماننے والا ا س کے صدق ونزاہت وجملہ کمالات کوعلی وجہ الکمال ثابت کرتاہے والحمد اﷲ رب العالمین وقیل بعدا للقوم الظلمین۔
لله الحمد اس عشرہ کاملہ نے ہذیان ناپاك گستاخ بیباك کی دھجیاں اڑادیں مگرہنوز ان کی نزاکتوں کو تو بس نہیں ع
صدہا سال می تواں سخن از زلف یارگفت
(زلف محبوب کے بارے میں سو سال بھی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع