30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامعیت اوصاف عجب چیز ہے،اور مجموعہ کا فضل آحاد پرظاہر،دہلوی ملا کو بھی الله عزوجل نے جامعیت اصناف بدعت عطا فرمائی تھی،دنیا بھر میں کم کوئی طائفہ ارباب ضلالت نکلے گا جس سے ان حضرت نے کچھ تعلیم نہ لی ہو،پھر ایجاد بندہ اس پر علاوہ،تو اس نئے فتنہ کو چاہے عطر فتنہ کہئے یا ضلالت کی گھانیوں کا عطر مجموعہ،اب یہ نفیس دلیل جو حضرت نے امکان کذب باری عزوجل پر قائم کی،حاشا ان کی اپنی تراشی نہیں کہ وہ دین میں نئی بات نکالنے کو بہت برا جانتے تھے بلکہ اپنے اساتذہ کا ملہ حضرات معتزلہ خذلہم الله تعالٰی سے سیکھ کر لکھی ہے،ان خبیثوں نے بعینہ حرف بحرف اس دلیل سے مولٰی تعالٰی کا امکان ظلم نکالا تھا اور جو نقص فقیر نے ان حضرت پر کئے بعینہ ایسے ہی نقصوں سے ائمہ اہل سنت نے ان باپاکوں کا رد فرمایا،امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں زیر قولہ عزوجل ان اﷲ لایظلم مثقال ذرہ فرماتے ہیں:
|
قالت المعتزلہ الاٰیۃ تدل علی انہ قادر علی الظلم لانہ تمدح بترکہ ومن تمدح بترك فعل قبیح لم یصح منہ ذٰلك التمدح الااذاکان ھو قادرًا علیہ الاتری ان الزمن لایصح منہ ان یتمدح بانہ لایذھب فی اللیالی الی السرقۃ والجواب انہ تعالٰی تمدح بانہ لاتاخذہ سنۃ ولانوم ولم یلزم ان یصح ذلك علیہ وتمدح بانہ لاتدرکہ الابصار ولم یدل ذٰلك عند المعتزلۃ عــــــہ علی انہ یصح ان تدرکہ الابصار [1]۔ |
یعنی معتزلہ نے کہا آیت مذکورہ دلالت فرماتی ہے کہ الله تعالٰی ظلم پر قادر ہے،اس لئے کہ رب عزوجل نے اس میں ترك ظلم سے اپنی مدح فرمائی ور کسی فعل قبیح کے ترك پر مدح جب ہی صحیح ہوگی کہ اسے اس کے کرنے پر قدرت ہو آخر نہ دیکھا کہ لنجھا اپنی تعریف نہیں کرسکتا کہ میں راتوں کو چوری کے لئے نہیں جاتا،ا سکا جواب یہ ہے کہ الله تعالٰی نے اپنی مدح میں فرمایا کہ اسےنیند آئے نہ غنودگی،حالانکہ معتزلہ کے ہاں بھی الله تعالٰی کے لئے یہ ممکن نہیں۔اور اپنی مدح میں یہ بھی فرمایا کہ ابصار اس کا احاطہ نہ کرسکیں،حالانکہ یہ بھی ان کے ہاں ممکن نہیں(ت) |
مسلمان دیکھیں کہ معتزلہ ذلیل کی یہ بیہودہ دلیل بعینہ وہی ہذیان ملائے ضلیل ہے یا نہیں۔فرق یہ ہے کہ انھوں نے اس قدیم العدل پر تہمت ظلم رکھی،انھوں نے اس واجب الصدق پر افترائے کذب اٹھایا،
|
عــــــہ:اقول: بل وعندنا ایضا اذاکان الادراك بمعنی الاحاطۃ ۱۲منہ |
میں کہتاہوں بلکہ ہمارے نزدیك بھی جب ادارك بمعنی احاطہ ہو ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع