30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کمال واجب لذاتہ تو کسی عیب سے اتصاف ممکن ماننا زوال الوہیت کو ممکن جاننا ہے پھر خدا کب رہا،
" وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾ " [1](بلکہ ظالم الله کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔ت) عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی تفسیر کبیر سے منقول ہوگا کہ باری تعالٰی کےلئے امکان ظلم ماننے کا یہی مطلب کہ اس کی خدائی ممکن الزوال ہے میں گما ن نہیں کرتا کہ اس بیباك کی طرح (مسلمانوں کی تو خدا امان کرے)کسی سمجھ وال کافر نے بھی بے دھڑك تصریح کردی ہو کہ عیب دلوث خدا میں توآسکتے ہیں مگر بطور ترفع یعنی مشیخت بنی رکھنے کے لئے ان سے دور رہتاہے ____ صدق اﷲ(الله تعالٰی نے سچ فرمایا۔ت):
|
" وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾ "[2] " فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصٰرُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾"[3] والعیاذ باﷲ سبحانہ وتعالٰی۔ |
اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی،بیشك آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (ت) |
ثم اقول: طرفہ تماشا ہے کہ خدا کی شان معلم طائفہ کا تو وہ ایمان کہ خدا کے لئے ہر عیب کا امکان اور ارباب طائفہ یوں بے وقت کی چھیڑ کرنا حق ہلکان"کہ تمام امت عــــــہ کے خلاف حق تعالٰی کے عجز پر عقیدہ ٹھہرانا تو مؤلف کے پیشوایان دین کاہے مؤلف اس پر اظہار افسوس نہیں کرتا[4]"۔حضرت! ذراگھر کی خبر لیجئے وہاں مولائے طائفہ عجز وجہل وظلم وبخل وسفہ وہزل وغیرہا دنیا بھر کے عیب نقائص کے امکان کا ٹھیکا لے چکے ہیں پھر بفرض غلط
عــــــہ:یہ عبارت براہین کے اسی صفحہ ۳ کی ہے جس کا خلاصہ صدر استفتاء میں گزرا یہاں ملا گنگوہی صاحب جناب مؤلف یعنی مکر منا مولوی عبدالسمیع صاحب مؤلف انوار ساطعہ پر یوں منہ آتے ہیں کہ تم لوگ الله کا عجز مانتے ہو جو محال پر اسے قادر نہیں جانتے ہواور ہم تو اس کے لئے جھوٹ وغیرہ سب کچھ جائز رکھتے ہیں تو عجز تو نہ ہو اگرچہ خدائی گئی،ہزارتف اس بھونڈی سمجھ پر،رہااس مغالطہ عجز کا دنداں شکن حل، وہ اس رسالہ مبارکہ میں جابجا گزرا،سبحان اﷲ! محال پر قدرت نہ ہونے کو عجز جاننا الٰہی کیسے نامشخص کی شخیص ہے،والله الہادی ۱۲ عفی عنہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع