30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ادون ست ازمدح اول [1]انتھی بلفظ الر کیك المختل۔ |
عاجز ہونے کی وجہ سے کلام کاذب سے بچنا کوئی صفات مدح میں سے نہیں یا اس کی مدح ہو بھی تو پہلے سے کم ہوگی (رکیك خلل پذیر عبارت ختم ہوئی)(ت)۔ |
اس تلمیع باطل وطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ عدم کذب الله تعالٰی کے کمالات و صفات مدائح سے ہے اور صفت کمال وقابل مدح یہی ہے کہ متکلم باوجود قدرت بلحاظ مصلحت عیب وآلائش سے بچنے کو کذب سے باز رہے،نہ کہ کذب پر قدرت ہی نہ رکھے،گونگے یا پتھر کی کوئی تعریف نہ کرے گا کہ جھوٹ نہیں بولتا تو لازم کذب الٰہی مقدور وممکن ہو۔
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)اس ہذیان شدید الطغیان کے شنائع ومفاسد حد شمار سے زائد مگر ان توسنیوں بدلگامیوں پر جو تازیانے بنگاہ اولین ذہن فقیر میں حاضر ہوئے پیش کرتاہوں وباﷲ العصمۃ فی کل حرف وکلمۃ(ہر حرف اور کلمہ میں الله کی عصمت ہے۔ت)
تازیانہ ۱:اقول: العزۃ ﷲ والعظمۃ ﷲ واﷲ الذی الا الہ الاھو(عزت الله تعالٰی کے لئے اور عظمت الله تعالٰی کے لئے ہے، الله کی ذات وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ت) " کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْ ؕاِنۡ یَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّاکَذِبًا ﴿۵﴾ "[2] (کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ت)ﷲ! یہ ظلم شدید و ضلال بعید تماشا کردنی کہ جابجا خود اپنی زبان سے کذب کو عیب ولوث کہا جاتاہے پھر اسے باری عزوجل کےلئے ممکن بتاتا اور الله کے جھوٹ نہ بولنے کی وجہ یہ ٹھہراتا ہے کہ حکیم ہے اور مصلحت کی رعایت کرتاہے لہذا ترفعا عن عیب الکذب وتنزھا عن التلوث بہ یعنی اس لحاظ سے کہ کہیں عیب دلوث سے آلودہ نہ ہوجاؤں کذب سے بچتاہے،دیکھو صاف صریح مان لیا کہ باری عزوجل کاعیب دار وملوث ہونا ممکن،وہ چاہے تو ابھی عیبی وملوث بن جائے،مگر یہ امر حکمت ومصلحت کے خلاف ہے اس لئے قصدا پرہیز کرتاہے تعالٰی اﷲ عما یقولون علوا کبیرا(الله تعالٰی اس سے کہیں بلند ہے جویہ کہتے ہیں۔ت)اور خود سرے سے اصل مبنائے خود سری دیکھئے،ملائے مقبوح کا یہ املائے مقدوح اس کلام آئمہ کے رد میں ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص باری تعالٰی پر محال،اس کے جواب میں فرماتے ہیں،محال بالذات ہونا ہمیں تسلیم نہیں بلکہ ان دلیلوں(یعنی دونوں ہذیانوں)سے ممکن ہے تو کیسی صاف روشن تصریح ہے کہ نصرف کذب بلکہ ہر عیب وآلائش کا خدا میں آنا ممکن،واہ بہادر! کیا نیم گردش چشم میں تمام عقائد تنزیہ و تقدیس کی جڑکاٹ گیا،عاجز،جاہل،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع