30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفس عبارت مشکوٰۃ وغیرہ سن سنا کر اجازت وسند کی داد وستد تابہ اذلہ واصاغر چہ رسد،امرنا ان نکلم الناس علی قدر عقولھم واﷲ الھادی وولی الایادی(ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم لوگوں کی عقل کے مطابق کلام کریں،الله تعالٰی ہی ہادی اور مدد کا مالك ہے۔ت)
ہذیان دوم مولائے نجدیہ:
|
عدم کذب رااز کمالات حضرت حق سبحانہ می شمارند واورا جل شانہ بآں مدح می کنند بخلاف اخرس و جماد کہ ایشاں راکسے بعدم کذب مدح نمی کند وپرظاہر ست کہ صفت کمال ہمین ست کہ شخصے قدرت برتکلم بکلام کاذب میدارد وبنا بررعایت مصلحت ومقتضی حکمت بتنزہ از شوت کذب تکلم بکلام کاذب نمی نماید ہماں شخص ممدوح می گردد وبسلب عیب کذب و اتصاف بکمال صدق بخلاف کسے کہ لسان اوماؤف شدہ باشد وتکلم بکلام کاذب نمی تواند کرد یاقوت متفکرہ اوفاسد شدہ باشد کہ عقد قضیہ غیر مطابقہ للواقع نمی تواندکرد یاشخصے کہ ہرگاہ کلام صادق مے گوید کلام مذکور ازوصادر می گردد و ہر گاہ کہ ارادہ تکلم بکلام کاذب می نماید آواز او بند مے گردد یازبان او ماؤف می شود یاکسے دیگر دہن اور رابند می نماید یا حلقوم اور اخفہ می کنند یا کسے کہ چند قضایا صادقہ رایاد گر فتہ است واصلہ پر ترکیب قضایائے دیگر قدرت نمی دارد و بناء علیہ کلام کاذب ازوصادرنمے گردد ایں اشخاص مذکورین نزد عقلا قابل مدح می نشیند بالجملہ عدم تکلم کلام کاذب ترفعا عن عیب الکذب وتنزہا عن التلوث بہ از صفات مدح ست وبنا عجز از تکلم بکلام کاذب ہیچ گونہ از صفات مدائح نیست یا مدح آں بسیار |
عدم کذب کو الله تعالٰی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں اور اس جل شانہ کی اس کے ساتھ مدح کرتے ہیں بخلاف گونگے اور جماد کے،ان کی کوئی عدم کذب سے مدح نہیں کرتا اور یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ کمال یہی ہے کہ ایك شخص جھوٹے کلام پر قادر تو ہو لیکن بنابر مصلحت اور بتقاضائے حکمت تقدس جھوٹے کلام کاا رتکاب اور اظہار نہ کرے ایسا شخص ہی سلب عیب کذب سے ممدوح اور کمال صدق سے متصف ہوگا بخلاف اس کے جس کی زبان ہی ماؤف ہوا ور جھوٹا کلام کر ہی نہیں سکتا یا اس کی سوچ وفکر کی قوت فاسد ہوکر قضیہ غیر مطابق للواقع کا انعقاد نہیں کرسکتا یا ایسا شخص ہے جو کسی جگہ سچا کلام کرتاہے،اس سے وہ صادر ہوتی ہے اور جس جگہ جھوٹا کلام کرنے کا ارادہ کرتاہے تو اس کی آواز بند ہوجاتی ہے یا اس کی زباں ماؤف ہوجاتی ہے،یا کوئی اس کا منہ بند کردیتاہے یااس کا کوئی گلا دبا دیتا ہے یا کسی نے چند سچے جملے رٹ لئے ہیں اور وہ دیگر جملوں پر کوئی قدرت ہی نہیں رکھتا اور اس بناء پر اس سے جھوٹ صادر ہی نہیں ہوتا،یہ مذکور لوگ عقلاء کے نزدیك قابل مدح نہیں ہیں بالجملہ عیب کذب سے بچنے اوراس میں ملوث ہونے سے محفوظ رہنے کے لئے جھوٹی کلام کا عدم تکلم صفات مدح میں سے ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع