30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشنیع من اللوازم التی لایتطرق الیھا الوھم [1]۔ |
وہم کو بھی راستہ نہیں۔ |
مسلمان انصاف کرے کہ یہ تشنیعیں جو علماء نے اس بد مذہب ابن حزم پر کیں اس بد مشرب عدیم الحزم سے کتنی بچ رہیں،
|
" کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّثْلَ قَوْلِہِمْؕ تَشٰبَہَتْ قُلُوۡبُہُمْؕ"[2] " وَ اَنَّ اللہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الْخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾"[3]۔ |
ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات،ان کے ان کے دل ایك سے ہیں،اور الله دغابازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(ت) |
رابعا اقول: العزۃ للہ،اگر دہلوی ملا کی یہ دلیل سچی ہو تو دو خدا،دس خدا،ہزار خدا،بیشمارخدا ممکن ہوجائیں،وجہ سنئے جب یہ اقرار پایا کہ آدمی جو کچھ کر سکے خدابھی اپنی ذات کےلئے کرسکتاہے،اور معلوم کہ نکاح کرنا،عورت سے ہم بستر ہونا،اس کے رحم میں نطفہ پینچانا قدرت انسانی میں ہے تو واجب کہ ملاجی کا موہوم خدا بھی یہ باتیں کرسکے ورنہ آدمی کی قدرت تو اس سے بھی بڑھ جائے گی،اور جب اتنا ہوچکا تو وہ آفتیں جن کے سبب اہل اسلام اتخاذولد کو محال جانتے تھے،امام وہابیہ نے قطعا جائز مان لیں۔آگے نطفہ ٹھہرنے ور بچہ ہونے میں کیا زہر گھل گیا ہے،وہ کون سی ذلت وخواری باقی رہی ہے جن کے باعث انھیں مانتے جھجکنا ہوگا بلکہ یہاں آکر خدا کا عاجز رہ جانا توسخت تعجب ہے کہ یہ توخاص اپنے ہاتھ کے کام ہیں جب دنیا بھر میں بزعم ملاجی سب کے لئے اس کی قدرت سے واعق ہوتے ہیں تو کیا اپنی زوجہ کے بارے میں تھك جائیگا اخر بچہ نہ ہونا یوں ہوتاہے کہ نطفہ استقرار نہ کرے اورخدا استفرار پر قادر ہے،یا یوں کہ منی ناقابل عقد و انعقاد یا مزاج رحم مں کوئی فساد یا خلل آسیب مانع اولادتو جب خدائی ہے کیا ان موانع کا ازالہ کرسکے گا،بہر حال جب امور سابقہ ممکن ٹھہرے تو بچہ ہونا قطعا ممکن اور خدا کا بچہ خدا ہی ہوگا،قال الله تعالٰی :
|
قُلْ اِنۡ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ |
تو فرما اگرر حمان کے لئے کوئی بچہ ہے تومیں سب سے پہلے |
|
عــــــہ:حملہ السدی علی الظاھر وعلیہ ھول فی تکملہ المفاتیں والبیضاوی والمدارك وارشاد العقل وغیرھا ولاشك انہ صحیح صاف لاغبار علیہ فای حاجۃ الی ارتکاب تاویلات بعیدۃ ۱۲ منہ |
سدی نے اسے ظاہر پر محمول کیا اور اسی پر اعتماد ہے تکملۃ المفاتیں، بیضاوی،مدارك اورارشاد العقل وغیرھا میں،اور بیشك یہ صحیح صاف ہے اس پر کچھ غبار نہیں تو پھر تاویلات بعیدہ کے ارتکاب کی کیا حاجت ہے ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع