30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثا: حضرت کو اسی"یکروزی"میں یہ تسلیم روزی کہ کذب عیب ومنقصت ہے اور بیشك باری عزوجل میں عیب ونقصان آنا محال عقلی،اور ہم اسی رسالہ کے مقدمے میں روشن کرچکے محال پر قدرت ماننا الله عزوجل کو سخت عیب لگانا بلکہ اس کی خدائی سے منکر ہوجانا ہے،حضرات مبتدعین کے معلم شفیق ابلیس خبیث علیہ اللعن نے یہ عجز وقدرت کا نیا شگوفہ ان دہلوی بہادر سے پہلے ان کے مقتدا ابن حزم فاسد العزم فاقد الجزم ظاہر المذہب ردی المشرب کو بھی سکھایا تھا کہ اپنے رب کا ادب واجلال یکسر پس پشت ڈال کتاب الملل والنحل میں بك گیا کہ انہ تعالٰی قادر ان یتخذ ولدا اذلو لك یقدر لکان عاجزا [1]یعنی الله تعالٰی اپنے لئے بیٹا بنانے پر قادر ہے کہ قدرت نہ مانو تو عاجز ہوگا۔
|
تعالی اﷲ عما یقول الظالمون علوا کبیرا " لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنۡشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾ اَنۡ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا ﴿ۚ۹۱﴾ وَ مَا یَنۢبَغِیۡ لِلرَّحْمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴿ؕ۹۲﴾ "[2] |
ظالم جو کہتے ہیں الله تعالٰی اس سے کہیں بلند ہے،بیشك تم حد کی بھاری بات لائے،قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں ڈھے کر اس پر کہ انھوں نے رحمن کے لئے اولاد بتائی اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔(ت) |
سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ،القدسی مطالب الوفیہ میں ابن حزم کا یہ قول نقل کرکے فرماتے ہیں:
|
فانظر اختلال ھٰذا المبتدع کیف غفل عمایلزم علی ھذہ المقالۃ الشنیعۃ من اللوازم التی لاتدخل تحت وھم وکیف فاتاہ ان العجز انما یکون لوکان القصور جاء من ناحیۃ القدرۃ عما اذا کان لعدم قبول المستحیل تعلق القدرۃ فلایتوھم عاقل ان ھذا عجز [3]۔ |
یعنی اس بدعتی کی بدحواسی دیکھنا کیونکر غافل ہوا کہ اس قول شنیع پر کیا کیا قباحتیں لازم آتی ہیں جو کسی وہم میں نہ سمائیں اور کیونکر اس کے فہم سے گیا کہ عجز توجب ہوکہ قصور قدرت کی طرف سے آئے اور جب وجہ یہ ہے کہ محال خودہی تعلق قدرت کی قابلیت نہیں رکھتا توا س سے کسی عاقل کو عجز کا وہم نہ گزرے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع