30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بولنے پر قادر نہ ہوگا حالانکہ اکثر آدمی اس پر قادر ہیں،تو آدمی کی قدرت الله سے بڑھ گئی،یہ محال ہے،تو واجب کہ اس کا جھوٹ بولنا ممکن ہو،
ایھا المسلمون! حماکم اﷲ شرالمجون(اے اہل اسلام! الله تعالٰی اس خطرناك شر سے محفوظ فرمائے۔ت)للہ! بنظر انصاف اس اغوائے عوام وطغوائے تمام کو غور کرو کہ اس بس کی گانٹھ میں کیا کیا زہر کی پڑیا بندھی ہیں۔
اولا:دھوکا دیا کہ آدمی تو جھوٹ بولتے ہیں خدا نہ بول سکے توقدرت انسانی اس کی قدرت سے زائد ہو حالانکہ اہل سنت کے ایمان میں انسان اور اس کے تمام اعمال واقوال واوصاف واحوال سب جناب باری عزوجل کے مخلوق ہیں،قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی :
|
" وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ "[1]۔ |
تم اور جو کچھ تم کرتے ہو سب الله ہی کا پیدا کیاہوا ہے۔ |
انسا ن کو فقط کسب پر ایك گونہ اختیار ملاہے،اس کے سارے افعال مولٰی عزوجل ہی کی سچی قدرت سے واقع ہوتے ہیں،آدمی کی کیاطاقت کہ بے اس کے ارادہ وتکوین کے پلك مارسکے،انسان کا صدق وکذب کفرایمان طاعت عصیان جو کچھ ہے سب اسی قدیرمقتدرجل وعلا نے پیدا کیا،ا ور اسی کی عمیم قدرت عظیم ارادت سے واقع ہوجاتاہے،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں بر ملائکہ و انبیاء خارج از قدرت الٰہیہ نیست والالازم آید کہ قدرت انسانی ازید از قدرت ربانی باشد چہ عقد قضیہ غیر مطالبہ للواقع والقائے آں برمخاطبین در قدرت اکثر افراد انسانی ست،کذب مذکور آرے منافی حکم اوست پس ممتنع بالغیر ست،ولہذا عدم کذب را ازکمالات حضرت حق سبحانہ بیشمار ند [2]الخ |
یہ قضیہ غیرمطابق للواقع ہے اور اس کا القاء ملائکہ اورانبیاء پر قدرت الٰہیہ سے خارج نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ قدرت انسانی قدرت ربانی سے زائد ہوجائے کیونکہ قضیہ غیر مطابق للواقع،اور اس کاالقاء مخاطبین پراکثر افراد انسانی کی قوت میں ہے،ہاں کذب مذکور اس کی حکمت کے منافی ہے لہذا یہ ممتنع بالغیر ہے اور اسی لئے عدم کذب کو الله تعالٰی کے کمالات سے شمار کرتے ہیں الخ۔ (ت) |
بقیہ عبارت سراپا شرارت زیر ہذیان دوم آئے گی ۱۲ عفاالله تعالٰی عنہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع