30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کرتاہے ؎
کہنے کو ان سے کہتاہوں احوال دل مگر
ڈرہے کہ شان ناز پہ شکوہ گراں نہ ہو
یا ایہاالقوم! ان حضرت امام اول وہابیت ہندیہ معلم ثانی طوائف نجدیہ کو اپنی اپج کا مزہ مقدم تھا بیباك روی میں اہلے کا عالم تھا،زبان کے آگے بارہ ہل چلتے،جب ابلتے پھر کیا کسی کے سنبھالے سنبھلتے،جدھر جانکلے مسجد ہو یا دیر لگی رکھنے سے پورا بیر ؎
گہ بت شکنی گاہ بمسجد زنی آتش از مذہب تو کافر مسلمان گلہ دارد
(کبھی تو بت توڑتاہے اور کبھی مسجدجلاتاہے،تیرے مذہب سے کافرو مسلمان دونوں کو گلہ ہے،ت)
اسی لئے حضرت کی ایك کتاب میں جو کفر ہے دوسری میں ایمان،آج جوولی ہے کل پکا شیطان،ایك انکھ سے راضی دوسری سے خفا،ایك پر میں زہر دوسرے میں شفاء،دور کیوں جائے ایك ہاتھ پر صراط ایك پر تقویت رکھ لیجئے،ایك دوسری کا رد کردے تو سہی اب ایك بڑی مصلحت سے جس کے لئے حضرت نے اپنی تصانیف میں بڑے بڑے پانی باندھے،اور پیش خویش آہستہ آہستہ سب سامان کر لئے،جسے فقیر نے اپنے مجموعہ مبارکہ"البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ"مجلد سوم عــــــہ۱ فتاوٰی فقیر مسمی بہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ میں مفصل ومدلله بیان کیا۔ یہ سُوجھی کہ وہ مطلب نہ نکلے گا جب تك الله تعالٰی کا وجوب صدق باطل نہ ہو لہذا رسالہ"یکروزی"میں امکان کذب کے قائل ہوئے اور اس بیہودہ دعوے کے ثبوت کو بہزار جان کنی دو۲ہذیان بین البطلان ظاہر کئے:
ہذیان اول امام وہابیہ:اگر کذب عــــــہ۲ الٰہی محال ہوا ور محال پر قدرت نہیں تو الله تعالٰی جھوٹ
عــــــہ۱: اب الحمد لله وہ بارھواں ہے ۱۲
عــــــہ۲: علمائے دین جوارشاد فرمایا کہ کذب عیب ہے اور عیب الله عزوجل پر محال،حضرت اس کے رد میں یوں اپنا خبث نفس ظاہر کرتے ہیں:
|
قولہ وھو محال لانہ نقص والنقص علیہ تعالٰی محال، اقول: اگر مراد از محال ممتنع لذاتہ است کہ تحت قدرت الٰہیہ داخل نیست پس لانسلم کہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور باشد |
قولہ یہ محال ہے کیونکہ نقص ہے اور الله تعالٰی پر نقص محال ہے ۔ اقول: اگر محال سے مراد محقق لذاتہ ہے جو قدرت الٰہیہ کے تحت داخل نہیں توہ م نہیں مانتےکہ کذب مذکور محال بمعنی مسطور ہوگا کیونکہ(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع