30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور پیش خویش آسمان بریں پر اٹھا کر رکھ دیا،اب اسکے خلاف کسی کی بات قبول ہونی تو بڑی بات،کان تك آئی اور طبیعت نے آگ لی،آہٹ ہوئی اور غصہ نے باگ لی،سننے سے پہلے ٹھہرایا کہ ہر گز نہ سنیں گے،بگڑنے کی قسم بنائے نہ بنائیں گے،ان ہٹوں کا پاس ہدایت سے یاس دلا رہا ہے،مگر پھر بھی اظہار حق کے بغیر چارہ کیا ہے ؎
من آنچہ شرط بلاغ ست باقومی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر وخواہ ملال
(بات کاپہنچانا ضروری ہے میں نے وہ کردیا اب تو میری بات سے نصیحت حاصل کرلے یا غصہ کرلے۔ت)
کاش خدا اتنی توفیق دے کہ اك ذرادیر کے لئے تعصب ونفسانیت کو پان رخصت ملے قائل امام طریق ہے،معترض خصم فریق، ان حیثتیوں کے لحاظ سے نظر بچ کر چلے،پھر گوش ہوش کو اجازت شنیدن ہو،پھر میزان خرد کو حکم سنجیدن،اب اگر قول خصم قابل قبول ہو تو اتباع حق سے کیوں ناحق عدول ہو،ورنہ پھر وہی تو وہی تمھارے امام جو بادہ آج بکام ہے کل بھی درجام، اس چند ساعت میں نہ کچھ بنے بگڑ ے نہ رنگ امامت جماہوا اکھڑے،ہاں اے وہ سورا خوجوسرکے دونوں جانب گوہر سماعت کے کان بنے ہو،جن پر ہواکی موجیں نیسانِ سخن سے بارور ہوکر مہین مہین پھوہار سے آواز وں کا جھالا برساتی اور ان قدرتی سیپوں میں ان ننھی ننھی بوندیوں سے سننے کے موتی بناتی ہیں،کیا کوئی تم میں " اَلْقَی السَّمْعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾ "[1](کان لگائے اور متوجہ ہو۔ ت)کے قابل نہیں۔ہاں اے گوشت کے وہ صنوبر ی ٹکڑوں جوسینوں کے بائیں پہلوؤں میں ملك بدن کے تخت نشین ہوجن کی سرکار میں آنکھوں کے عرض بیگی کانوں کے جاسوس بیرونی اخبار کے پرچے سناتے اور خرد کے وزیر فہم کے مشیر اپنی روشن تدبیر سے نظم ونسق کے بیڑے اٹھاتے ہیں،کیا تم میں کوئی " الَّذِیۡنَ یَسْتَمِعُوۡنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحْسَنَہٗ ؕ"[2](کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں۔ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)نجدیت نجدت وتہمت مکابرہ پر آئیں)اس تنزیہ کا جواب دینا بھی(اگرنفخ صور سے پہلے دے سکیں)نہایت ضروری و لازم ہے یہ تو کوئی مقتضائے غیرت نہیں کہ گھر بیٹھے حمایت امام کا بیڑا اٹھائے اور جب شیر شرزہ کا نعرہ جانگداز سنئے امام کو چھوڑ کر حمایت سے منہ موڑئے اور " اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ"[3](میں تجھ سے بری ہوں مجھے ڈر ہے،ت)کی ٹھہرائے،والسلام ۱۲ منہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع