30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقال انی لا اقول الا حقا [1]۔اخرجہ احمد والترمذی باسناد حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ |
(صلی الله تعالی علیہ وسلم)! آپ ہم سے مزاج فرماتے ہیں، آپ نے فرمایا:میں صرف حق ہی کہتاہوں،امام احمد اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرۃ نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔(ت) |
درجہ ۲:ان لغو وعبث جھوٹوں سے بھی بچے مگر نثریا نظم میں خیالات شاعرانہ ظاہر کرتاوہں جس طرح قصائد کی تشبیہیں ع
بانت سعاد فقلبی الیوم متبول
(سعاد کی جدائی پر آج میرادل مضطرب ہے۔ت)
سب جانتے ہیں کہ وہاں نہ کوئی عورت سعاد نامی تھی نہ حضرت کعب رضی الله تعالٰی عنہ اس پر مفتون،نہ وہ ان سے جدا ہوئی نہ یہ اس کے فراق میں مجروح،محض خیالات شاعرانہ ہیں،مگر نہ فضول بحث کہ تشخید خاطر و تشویق سامع وترقیق قلب وتزئین سخن کا فائدہ رکھتے ہیں تاہم ازانجا کہ حکایت بے محکی عنہ ہے:ارشاد فرمایاگیا:" وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ"[2]نہ ہم نے اسے شعر سکھایا نہ وہ اس کی شان کے لائق۔صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔
درجہ ۳:ان سے بھی تحریر مگر مواعظ وامثال میں ان امور کا استعمال کرتاہوں جن کے لئے حقیقت واقعہ نہیں جیسے کلیلہ دمنہ کی حکایتیں،منطق الطیر کی روایتیں،اگرچہ کلام قائل بظاہر حکات واقع ہے مگر تغلیظ سامع نہیں کہ سب جانتے ہیں وعظ ونصیحت کے لئے یہ تمثیل باتیں بیان کردی گئی ہیں جن سے دینی منفعت مقصود،پھر بھی انعدام مصداق موجود،ولہذا قرآن عظیم کو "اَسٰطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ"[3](پہلوں کے قصے۔ت)کہنا کفر ہوا جیسے آج کل کے بعض کفار لئام،مدعیان اسلام،نئی روشنی کے پرانے غلام دعوٰی کرتے ہیں کہ کلام عزیز میں آدم وحوا کے قصے شیطان وملك کے افسانے سب تمثیل کہانیاں ہیں جن کی حقیقت مقصود نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع