30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والاحکام لا احدیبدل شیئا من ذٰلك بما ھواصدق واعدل ولابماھو مثلہ [1]۔ |
عدل کے اعتبار سے انتہائی درجہ پر ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اصدق واعدل نہیں جو ان میں سے کسی حکم کو بدل ڈالے بلکہ ان کے مماثل بھی کوئی نہیں۔(ت) |
اقول: و بالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)صدق قائل کے لئے سات ۷ درجات ہیں:
درجہ اول:روایات وشہادات میں قطعا کذب سے محترز ہو اور مخالف میں بھی زنہار ایسا جھوٹ روانہ رکھے جس میں کسی کا اضرار ہو اگرچہ اسی قدر کہ غلط بات کا بار کرانا مگر مزاحا یا عبثا ایسے کذب کا استعمال کرے جو نہ کسی کو نقصان دے نہ سننے والا یقین لاسکے مثلا آج زید نے منوں کھایا،آج مسجد میں لاکھوں آدمی تھے،ایسا عــــــہ شخص کاذب نہ گنا جائے گا یا آثم ومردود الروایۃ نہ ہوگا تاہم بات خلاف واقع ہے اور محض فضول وغیرنافع،اگرچہ نفس کلام میں حکایت واقع،مراد نہ ہونے پر دلیل قاطع،ولہذا حدیث میں ا رشاد فرمایا:
|
قال بعض اصحابہ فانك تداعبنا یارسول اﷲ |
آپ کے بعض صحابہ کرام نے عرض کیا:یار سول الله |
|
عــــــہ: قال الامام حجۃ الاسلام محمدن الغزالی قدس سرہ العالی فی منکرات الضیافۃ من کتاب الامر بالمعروف من احیاء العلوم کل کذب لایخفی انہ کذب ولایقصد بہ التلبیس فلیس من جملۃ المنکرات کقول الانسان مثلا طلبتك الیوم مائۃ مرۃ،واعدت علیك الکلام الف مرۃ، ومایجری مجراہ ممایعلم انہ لیس یقصد بہ التحقیق فذلك لایقدح فی العدالۃ ولاترد الشہادۃ بہ[2]۔ ۱۲ منہ |
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم کی کتاب الامر بالمعروف میں منکرات ضیافت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں ہر وہ کذب جس کا کذب ہونا مخفی نہ ہو اور اس سے کوئی فریب ودھوکا متصور نہ ہو تو وہ منکرات میں سے نہیں ہوگا مثلا انسان کہتاہے میں نے آج تجھے سو دفعہ تلاش کیا،میں نے آج تجھے ہزار دفعہ کہا ہے یا ان کے قائم مقام الفاظ جن سے معلوم ہو کہ مقصود تحقیق نہیں تو یہ چیز عدالت پر قادح نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے ایسے شخص کی شہادت مردود ہوگی ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع