30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلیل بست ونہم:قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی:" قُلْ اَیُّ شَیۡءٍ اَکْبَرُ شَہٰدَۃً ؕ قُلِ اللہُ ۟"[1] (اے نبی! تو کافروں سے پوچھ کون ہے جس کی گواہی سب سے بڑی ہے۔توخود ہی فرما کہ اللہ)
اقول: الله کے لئے حمد ومنت کہ یہ آیہ کریمہ آیہ سابقہ سے بھی جلی و اظہر،اور افادہ مراد میں اجلٰی وازہر،وہاں ظاہر نظر نفی اصدقیت غیر تھا اور اثبات اصدقیت کلام الله بحوالہ عرف یہاں صراحۃ ارشاد ہوتا ہے کہ الله عزوجل کی گواہیوں سے اکبر واعظم واعلٰی ہے،اب اگر معاذالله امکان کذب کو دخل دیجئے تو ہر گز شہادت الٰہی کو شہادت اہل تواتر پر تفوق نہیں کہ جو یقین اس سے ملے گا اس سے بھی مہیا اور جو احتمال اس میں باق اس میں بھی پیدا تو قرآن پر ایمان لانے والے کو یہی چارہ کہ مذہب مہذب اہل سنت کی طرف رجوع کرے اور جناب عزت کے امکان کذب سے براءت پر ایمان لائے،باقی تقیریر دلیل مثل سابق ہے، فافھم واعلم اﷲ اعلم۔
دلیل سیم:قال ربنا عز من قائل:
|
"وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾ "[2] |
اور پورا ہے تیرے رب کا کلام صدق وانصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا،اور وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ |
علماء فرماتے ہیں یعنی باری عزوجل کا کلام انتہا درجہ صدق وعدل پر ہے،جس کا مثل ان امور میں متصور نہیں،بیضاوی میں ہے:
|
بلغت الغایۃ اخبارہ واحکامہ ومواعیدہ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الانقضیۃ والاحکام[3]۔ |
الله تعالٰی کی اخبار،احکام اور مواعید انتہائی کامل ہیں،اخبار مواعید صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام عدل کے اعتبار سے۔(ت) |
ارشاد العقل السلیم میں ہے:
|
المعنی انھا بلغت الغایۃ القاصیۃ صدقا فی الاخبار والمواعید وعدلا فی الاقضیۃ |
مفہوم یہ ہے کہ الله تعالٰی کے کلمات اخبار ومواعید میں صدق کے اعتبار سے اور قضایا واحکام میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع