30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یحکم حکما قطعیا بانھم لم یتواطؤا علی الکذب وان مااتفقوا علیہ حق ثابت فی نفس الامر غیر محتمل للنقیض لابمعنی سلب الامکان العقلی عن تواطئھم علی الکذب[1] اھ ملخصًا۔ |
لگاتی ہے کہ ایسے لوگوں کا اتفاق کذب پر یقینًا نہیں ہوسکتا، جس پر ان کا اتفاق ہوا ہے وہ حق اور نفس الامر میں ثابت ہے اس میں نقیض کا احتمال نہیں ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کا امکان عقلی کا سلب ہوگیا ہے۔(ت) |
مگر ایسا امکان منافی قطع بالمعنی الاخس بھی نہیں ہوتا کما حققہ فی المواقف وشرحھا واشار الیہ فی شرح المقاصد و شرح العقائد وغیرھما(جیسا کہ مواقف ااورا س کی شرح میں ہے اوراس کی طرف شرح مقاصد اور شرح عقائد وغیرہ میں اشارہ ہے۔ت)اسے پیش نظر رکھ کر کلام باری تعالٰی کی طرف چلئے،امکان کذب ماننے کے بعد مباحث مذکورہ دلیل دوم وفرق امور عادیہ وارادہ غیبیہ سے قطع نظر بھی ہو تو غایت درجہ اس قدر کے کلام ربانی وخبر اہل تواتر کانٹے کی تول ہم پلہ ہوں گے،جیسا کہ احتمال کذب یعنی نافی قطع ومنافی جزم اس کلام پاك میں نہیں اس سے خبر تواتر کا بھی دامن پاك اور بنظر امکان ذاتی جو احتمال عقلی خبر تواتر میں ناشی وہ بعینہ کلام الٰہی میں بھی باقی،پھر کلام الٰہی کا سب کلاموں سے اصدق ہونا،اور کسی کی بات اس سے صدقًا بھی ہمسری نہ کرسکنا کہ مفاد آیہ کریمہ تھا معاذالله کب درست آیا بخلاف عقیدہ مجیدہ اہلسنت وقایۃ اﷲ لھم دامت (ان کو الله تعالٰی کی حفاظت دائمی ہو۔ت)یعنی امتناع عقلی کذب الٰہی کہ اس تقریر پر کلام مولٰی جل وعلا میں کسی طرح احتمال کذب کا امکان نہیں بخلاف خبر تواتر کہ احتمال امکانی رکھتی ہے اور یہ بات قطعا صرف اسی کے کلام پاك سے خاص،محال ہے کہ کوئی شخص ایسی صورت نکال سکے کہ کسی غیر خد ا پر کذب محال عقلی ہوجائے عصمت اگر بمعنی امتناع صدور وعدم قدرت ہی لیجئے تاہم امتناع ذاتی نہیں کہ سلب عصمت خود زیر قدرت،اب بحمد اﷲ شمس تابندہ کی طرح روشن درخشندہ صادق آیا کہ" وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾ "[2] (اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ت)اور العزۃ ﷲ کیوں نہ صادق آئے کہ آخر "وَمَنْ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا ﴿۱۲۲﴾ "[3](اور الله سے زیادہ کس کی بات سچی۔ت)یہ دیکھو یہ منشاء تھا علماء کے اس ارشاد کاکہ زیر آیت کریمہ استدلال میں فرمایا کہ کوئی اس سے کیونکر اصدق ہوسکے کہ اس پر تو کذب محال اوروں پر ممکن والحمد اﷲ رب العالمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع