دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 15 | فتاوی رضویہ جلد ۱۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۵

سچ ہی نہ رہا،اصدق وصادق کہاں سے صادق آئے گا،یہ معنی اگرچہ فی نفسہٖ بدیہی ہیں مگر کلام واحد میں لحاظ کرنے سے ان اغبیاء پر بھی انکشاف تام پائیں گے جنھیں بدیہیات میں بھی حاجت شانہ جنبانی تنبیہ ہوتی ہے،قرآن عظیم نے فرمایا محمد رسول الله کہ ہم کہتے ہیں محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم،کیا وہ جملہ محمد رسول الله کہ قرآن میں آیا زیادہ مطابق واقع ہے اور ہم نے جو محمد رسول الله کہا کم مطابق ہے،حاشا کوئی مجنون بھی اس میں تفاوت گمان نہ کرے گا یا متعدد باتوں میں دیکھئے تو یوں نظر کیجئے،فرقان عزیز نے فرمایا:" وَ حَمْلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ"[1] (اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے۔ت) ہم کہتے ہیں لا الہ الا اﷲ الملك الحق المبین(الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہی مالك حق واضح ہے۔ت)کیا وہ ارشاد کہ بچے کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوٹنا تیس مہینے میں ہے،زیادہ سچا ہے،اور اس قول کے صدق میں کہ الله کے سوا کوئی سچا معبود نہیں معاذالله کچھ کمی ہے تو ثابت ہوا کہ اصدقیت بمعنی اشد مطابقۃ للواقع غیر معقول ہے،ہاں نظر سامع میں ایك تفاوت متصور اور اس تشکیك اصدق وصادق میں وہی مقصود معتبر جسے دو عبارتوں سے تعبیر کرسکتے ہیں،ایك یہ کہ وقعت وقبول میں زائد ہے مثلا رسول کی بات ولی کی بات سے زیادہ سچی ہے یعنی ایك کلام کہ ولی سے منقول اگر وہی بعینہ رسول سے ثابت ہوجائے قلوب میں وقعت اور قبول کی قوت اور دلوں میں سکون و طمانیت ہی اور پیدا کرے گا کہ ولی سے ثبوت تك ا س کا عشر نہ تھا اگرچہ بات حرف بحرف ایك ہے۔دوسرے احتمال کذب سے ابعد ہونا مثلا مستور کی بات سے عادل کی بات صادق تر ہے یعنی بہ نسبت اس کے احتمال کذب سے زیادہ دور ہے اور حقیقۃ تعبیر اول اسی تعبیر دوم کی طرف راجح کہ سامع کے نزدیك جس قدر احتمال کذب سے دوری ہوگی اسی درجہ وقعت ومقبولیت پوری ہوگی جب یہ امر ممہد ہوگیا تو آیہ کریمہ کا مفاد یہ قرار پایا کہ الله عزوجل کی بات ہر بات سے زیادہ احتمال کذب سے پاك ومنزہ ہے،کوئی خبر اور کسی کی خبر اس امر میں اس کے مساوی نہیں ہوسکتی اور شاید حضرات مخالفین بھی اس سے انکار کرتے کچھ خوف خدا دل میں لائیں،اب جو ہم خبر اہل توارت کو دیکھتے ہیں تو وہ بالبداہۃ بروجہ عادت دائمہ بدیہ غیر متخلفہ علم قطعی یقینی جازم ثابت غیر محتمل النقیض کو مفید ہوتی ہے جس میں عقل کسی طرح تجویز خلاف روا نہیں رکھتی اگرچہ بنظر نفس ذات خبر و مخبرا مکان ذاتی باقی ہے کہ ان کا جمع علی الکذب قدرت الٰہیہ سے خارج نہیں،تلویح میں ہے:

المتو اتریوجب علم الیقینی بمعنی ان العقل

متواتر سے علم یقین حاصل ہونے کا معنی یہ ہے کہ عقل یہ حکم

 


 

 



[1] القرآن الکریم ۴۶/ ۱۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن