30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَی اللہِ کَذِبًا "[1](الله تعالٰی پر جھوٹ افترا بولنے والے سے کون بڑاظالم ہے۔ت)فرماتے ہیں:
|
ھو انکار واستعباد لان یکون احد اظلم ممن فعل ذٰلك او مساویا لہ وان کان سبك الترکیب غیر معترض لانکار المساواۃ و نفیھا یشھد بہ العرف الفاشی والاستعمال المطرد،فانہ اذا قیل من اکرم من فلان اولا افضل من فلان فالمراد بہ حتما انہ اکرم من کل کریم وافضل من کل فاضل،الایری الی قولہ عزوجل"لَاجَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخْسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾" بعد قولہ تعالٰی "وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا "الخ والسر فی ذٰلك ان النسبۃ بین الشیئین انما تتصور غالبا لاسیمافی باب المغالابۃ بالتفاوت زیادۃ ونقصانا فاذالم یکن احدھما ازید یتحقق النقصان لامحالۃ [2]۔ |
یہ انکار واستعبار ہے کہ اس سے بڑھ کر یا اس کے مساوی کوئی ظالم نہیں ہو سکتا اگرچہ بظاہر ترکیب انکار و نفی مساوات پر ضرب نہیں لیکن اس پر مشہور عرف اور مسلمہ استعمال شاہد ہے مثلا جب یہ کہا جاتاہے فلاں فلاں زیادہ بزرگ ہے یا فلاں سے کوئی افضل نہیں،توا س سے یقینا مراد یہ ہے کہ ہر کریم سے اکرم اور ہر فاضل سے افضل ہے کیا رائے ہے الله تعالٰی کے اس فرمان مبارك میں"وہ یقینا آخرت میں خسارے میں ہیں"جس کے بعد فرمایا ومن اظلم ممن افترٰی علی اﷲ کذبا، اوراس میں راز یہ ہے کہ نسبت غالبا دو چیزوں کے درمیان خصوصا غلبہ میں تفاوت کے باب میں زیادتی اور نقصان میں متصور ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی ایك زیادہ نہ ہو تو بہر حال نقصان کاہی تحقق ہوگا۔(ت) |
تو لاجرم معنی آیت یہ ہیں کہ مولٰی عزوجل کی بات سب کی باتوں سے زیادہ صادق ہے جس کے صدق کو کسی کلام کا صدق نہیں پہنچتا اور پر ظاہر کہ صدق عــــــہ کلام فی نفسہ اصلا قابل تشکیك نہیں کہ باعتبار ذوات قضایا خواہ اختلاف قدم وحدوث کلام یا بقا وفنائے سخن یا کمال ونقصان متکلم خواہ کسی وجہ سے اس میں تفاوت مان سکیں،سچی سچی باتیں مطابقت واقع میں سب یکساں اگر ذرا بھی فرق ہوا تو سرے سے
|
عــــــہ: الصدق تارۃ ینسب الی القول واخری الی القائل والکلام ھٰھنا فی المعنی الاول فلا یذھبن ھذاعنك ۱۲ منہ۔ |
صدق کبھی قول کی طرف منسوب ہوتاہے اور کبھی قائل کی طرف،واضح رہے یہاں گفتگو معنی اول میں ہے یہ بات ذین نشین رہے ۱۲ منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع