30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفتازانی مبحث رابع فصل تنزیہات شرح مقاصد میں فرماتے ہیں:
|
ان لم یکن من صفات الکمال امتنع اتصاف الواجب بہ للاتفاق علی ان کل مایتصف ھو بہ یلزم ان یکون صفۃ کمال [1]۔ |
اگر وہ صفات کمالیہ میںسے نہیں تو اس کے ساتھ واجب کا اتصاف ممتنع ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ واجب جس کے ساتھ متصف ہوگا اس کا صفت کمال ہونا ضروری ہے۔(ت) |
علامہ ابن ابی شریف مسایرہ میں فرماتے ہیں:
|
یستحیل علیہ تعالٰی کل صفۃ لاکمال فیھا ولانقص لان کلان من صفات الالٰہ صفۃ کمال [2]۔ |
الله تعالٰی کے لئے ہر وہ صفت محال ہے جس میں نہ کمال ہو اور نہ نقص ہو کیونکہ الله تعالٰی کی ہر صفت صفت کمال ہے،(ت) |
دلیل بست وپنجم: اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)بداہت عقل شاہد عدل کہ جو مطلق کذب پر قادر ہوگا کذب مطلق پر بھی قدرت رکھے گا کہ بعض کلام میں کذب پر قادر اور بعض میں اس سے عاجز ہونے کے کوئی معنی نہیں،اور قرآن کلام الله قطعا حق جس کے بعض قضایا مثل قولہ تعالٰی لاالہ الاالله وقولہ تعالٰی محمد رسول الله وغیرھما کے صدق پر عقل صرف بے توقف شرع وتوقیف سمع خود حکم کرتی ہے تو واجب کہ قرآن عظیم مقتضائے ذات نہ ہو،اورنہ کذب مطلق مقدور نہ رہے گا کہ کلام ہر گز کاذب نہیں ہوسکتا اور جو کچھ ذات نہ مقتضائے ذات وہ قطعا حادث ومخلوق تو کذب الٰہی کا ممکن ماننا قرآن عظیم کلام الله کے حادث ومخلوق ماننے کو مستلزم اب بعد تنبیہ بھی اصرار کرو تو اب معتزلی کرامی گمراہ ہونے سے کیوں انکار کرو۔
دلیل بست وششم: اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اورتوفیق الله تعالٰی سے ہے۔ت)جب بر تقدیر امکان کذب،بوجہ بطلان ترجیح بلامرجح ونیز بحکم بداہت غیرمکذوبہ،ہر فرد کذب قدرت الٰہی میں ہوا تو ہر فرد صدق مقدور ہوگا ورنہ صدق البعض واجب یا محال ہوگا۔تو کذب فی البعض محال یا واجب حالانکہ ہر فرد کذب مقدور مانا تھا،"ھذا خلف"پس صدق وکذب کا ہر ہر فرد و مقدور ہوا اور ہر مقدور حادث تو کلام الٰہی سے مطابقت ولامطابقت دونوں مرتفع،اویہ بداہۃ محال۔
دلیل بست وہفتم: اقول: وباﷲ التوفیق کتب حدیث وسیر مطالعہ کیجئے بہت خوش نصیب ذی عقل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع