30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثا: خود قرآن عظیم نفی واسطہ پر ناطق،
|
قال مولانا ذوالجلال فما ذا بعد الحق الاالضلل [1]۔ |
ہمارے مالك صاحب جلال کا فرمان ہے پھر حق کے بعدکیا ہے مگر گمراہی۔(ت) |
تو لاجرم شق اول متعین اور شاید مخالف بھی اس سے انکار نہ رکھتاہو اب ہم پوچھتے ہیں کذب ممکن علی فرض الوقوع صرف کسی کلام نقل کو عارض ہوگا یا نفیس کو بھی،اول محض بے معنی کہ صدق وکذب حقیقۃ موصوصف معنی ہے نہ صفت عبارت،ولہذا شرح مقاصد میں فرمایا:
|
طریق اطراد ھذاالوجہ فی کلام المتنظم من الحروف المسموعہ انہ عبارۃ عن کلامہ الازلی ومرجع الصدق والکذب الی المعنی [2]۔ |
یہ تو ایسی کلام میں جاری ہو رہاہے جو صرف مسموعہ سے بنی ہے اوریہ کلام ازلی سے عبارت ہے اور صدق و کذب کا مرجع معنی ہے۔(ت) |
بر تقدیر ثانی یہ کلام نفسی وہی کلام قدیم ہے یا علی تقدیر التجزی اس کا بعض ہوگا جو ازل میں ایجاباکلیاصادق تھا یا اس کا غیر شق ثانی پر قیام حوادث لازم اور اول میں انقلابِ صدق بکذب کہ کلامِ بشر میں بھی محال،سچی بات کبھی جھو ٹی عــــــہ
عــــــہ: یہاں بعض اذہان میں یہ شبہہ گزرتاہے کہ زید آج قائم ہے توقضیہ زید قائم حق ہے،کل قائم نہ رہا تو زید لیس بقائم حق ہوگیا اور اس کی حقیقت اس کے کذب کو مستلزم،اقول: ان صاحبوں نے فعلیہ ودائمہ میں فرق نہ کیا یا نہ جانا کہ دومطلقہ عامہ میں تناقص نہیں، مسلم الثبوت میں ہے:
|
الخبر الصادق صادق دائما والکاذب کاذب دائما [3]۔ |
خبر صادق ہمیشہ صادق اور خبر کاذب ہمیشہ کاذب ہوتی ہے۔(ت) |
مولانا قدس سرہ فواتح میں فرماتے ہیں:
|
ولایکن ان یدخلا فی شیئ من الاخبار،وفرق بین تحقق مصداق الخبر وصدقہ فان الاول قدیختلف بحسب الاوقات واما |
دونوں کاکسی خبر میں جمع ہونا ممکن نہیں،اور خبر کے مصداق کے تحقق اوراس کے صدق میں فرق ہے کیونکہ پہلا اوقات کے اعتبار سے مختلف ہوتاہے،(باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع